زمیں اور آسماں ہونے سے پہلے

زمیں اور آسماں ہونے سے پہلے
یہاں کیا تھا جہاں ہونے سے پہلے


یہاں ہوں میں وہاں ہونے سے پہلے
کہاں تھا میں یہاں ہونے سے پہلے


تمہاری بے رخی کا لطف لیں گے
تمہارے مہرباں ہونے سے پہلے


امیر کارواں بننے کی ضد ہے
شریک کارواں ہونے سے پہلے


پرندوں پر نہ تانو اس کو لوگو
یہ ٹہنی ہے کماں ہونے سے پہلے


چھپی تھی دوریاں نزدیکیوں میں
ہمارے درمیاں ہونے سے پہلے


نماز عشق پڑھنا ہے ضروری
چلے آؤ اذاں ہونے سے پہلے


صدائیں کوئی تو سن لے ہماری
ہمارے بے زباں ہونے سے پہلے


میں قطرہ کہہ کے اس کو چھیڑتا تھا
سمندر کو جواں ہونے سے پہلے


چھپے تھے ضبط غم کی وادیوں میں
مرے آنسو عیاں ہونے سے پہلے


چھپائیں کس طرح سے راز اپنے
کسی کے راز داں ہونے سے پہلے