یقیں کے بھی کیا کیا حجابات ہیں

یقیں کے بھی کیا کیا حجابات ہیں
حقیقت کی ضد اعتقادات ہیں


ترقی کے رستے نہ کھلتے مگر
یہ سب دوستوں کی عنایات ہیں


یہ زنجیر بھی اتنی محکم نہیں
حقائق بھی ذاتی خیالات ہیں


کوئی شخص خوبی سے خالی نہیں
ہر اک شخص کے اپنے حالات ہیں


فلک کو بھی دیکھیں گے لیکن ابھی
زمیں پر بھی کتنے مقامات ہیں


ادا کچھ کیا نسل فردا کا قرض
کہ ہم اے زمانے ترے ساتھ ہیں