تحریر

ہوا لہروں پہ لکھتی ہے تو پانی پر تحریر کرتا ہے
کہ ہم فرزند آدم کی طرح سب نقش گر ہیں
اہل فن ہیں
زندگی تخلیق کرتے ہیں
ستارہ ٹوٹ جاتا ہے
مگر بجھنے سے پہلے اپنی اس جگ مگ عبارت سے فنا پر خندہ زن ہوتا ہے
میں مٹ کر بھی آنے والے لمحوں میں درخشاں ہوں
جو پتا شاخ سے گرتا ہے
قرطاس ہوا پر دائروں میں لکھتا آتا ہے
کہ شاخوں پر تڑپتے دوستو
اگلی بہاروں میں مجھے پھر لوٹنا ہے پھوٹنا ہے ٹوٹنا ہے خاک ہونا ہے
مگر وہ خاک جو اشجار کی ماں ہے
وہ کوندا جو گھٹا پر ثبت کر کے دستخط اپنے
بظاہر جا چکا ہوتا ہے
چھپ کر دیکھتا ہے
کس طرح تاریکیوں میں زلزلے آتے ہیں
منظر جاگ اٹھتے ہیں
وہ جاں جو پس در کتنے برسوں سے تنہا ہے
اک صحیفہ ہے
کبھی سورج کی کرنوں میں اسے دیکھو
تو پوری کائنات اس میں مجسم پاؤ گے اور جھوم جاؤ گے
کتابیں پڑھنے والے تو نہ مانیں گے
مگر از خاک تا افلاک جو کچھ بھی ہے وہ تحریر ہے
الفاظ ہیں اعراب ہیں نقطے ہیں شوشے ہیں کشیں ہیں دائرے ہیں حرف ہیں جن میں طلسم زندگی
اسرار کا اظہار کرتا ہے