سورج نے اک نظر مرے زخموں پہ ڈال کے

سورج نے اک نظر مرے زخموں پہ ڈال کے
دیکھا ہے مجھ کو کھڑکی سے پھر سر نکال کے


رکھتے ہی پاؤں گھومتی چکراتی راہ نے
پھینکا ہے مجھ کو دور خلا میں اچھال کے


کیا خواہشیں زمین کے نیچے دبی رہیں
غاروں سے کچھ مجسمے نکلے وصال کے


چھن چھن کے آ رہی ہو گپھاؤں میں روشنی
تن پر وہی لباس ہوں پیڑوں کی چھال کے


رنگوں کی رو ہے زیبؔ کہ گردش میں ہے مدام
بے شکل و جسم ابھرے ہیں پیکر خیال کے