افسانہ

نجات

سارے بچے میدان میں کبڈی کھیل رہے ہیں۔ ان میں میرے تین بھائی بھی شامل ہیں۔ بارہ سے پندرہ سال کے بچوں کا گروپ ہے۔ ان کے جسم پر ہاف پینٹ ہیں یا انڈویئر یا چڈی۔۔۔ سب کے بدن پر بھوری مٹی ملی ہوئی ہے۔ ان کے بدن کندن کی طرح دمک رہے ہیں۔ وہ آپس میں یوں گتھم گتھا ہیں کہ خوف سا محسوس ہوتا ...

مزید پڑھیے

دم

رات کی تاریکی ماحول کی سنگینی میں گھل مل گئی۔ تاریکی، سناٹا اور چاروں کھونٹ گونجتی ہوئی خاموشی کی چیخ جو بند کمرے میں بھی یوں گھسی آرہی تھی جیسے اسے روک ٹوک کی پروا نہ ہو۔ خاموشی کی موجودگی میں کمرے میں پھر اور کس چیز کا گزر ہوسکتا تھا۔ ابھی ابھی وہاں شطرنج کی بساط بچھی تھی۔ ...

مزید پڑھیے

شرط

دکان سے باہر آتے ہی اس کا لچکیلا دروازہ ایک خاص ادا کے ساتھ خود بہ خود بندہوگیا، اس نے مسکرا کر بند دروازے کے شیشوں پر اپنا ہاتھ پھیرا اور سامنے بہتی ہوئی دنیا پر ایک نظر ڈالی۔ دنیا، زندگی سے بھرپور، خوبصورت اور رواں دواں تھی اور اس میں اس قدر حرارت تھی کہ اس کی ساری کمزوری اور ...

مزید پڑھیے

میوزیکل چیئر

وقت، تاریخ، دن اور سال۔۔۔ ان میں صرف وقت کی ڈوروں کا سرا ہمارے ہاتھوں میں تھا جسے ہم نے مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا ورنہ ریشمی ڈوریاں بہت آسانی کے ساتھ ہمارے ہاتھوں سے پھسلتی رہیں اور ہم ان کے نشانات کو البم میں سجا سجا کے خوش ہوتے رہے۔ کرسیاں چار تھیں، ان کرسیوں پر ناموں کی ...

مزید پڑھیے

سدّ باب

موبائل پر بات کرتے کرتے اچانک اس کے چہرے کارنگ بدل گیا۔ موبائل بند کرکے اس نے کچھ سوچا، پھر اٹھ کر کمرے میں ٹہلنے لگا، بیوی غور سے اس کی حرکات و سکنات کو دیکھ رہی تھی، آخر وہ پوچھ بیٹھی۔ ’’کیا ہوا۔۔۔؟‘‘ ’’بھوت۔۔۔!‘‘ مرد کے منہ سے اچانک نکل گیا۔ بیوی کے منہ سے بھی بے ساختہ ...

مزید پڑھیے

نشان والے

بیوی نے کہا۔۔۔ ’’اور سب تو ٹھیک ہی ہے، مکان بھی اچھا ہے لیکن آپ جانتے ہیں کہ آپ کا پڑوسی کون ہے۔۔۔؟‘‘ ’’بھئی ہم کل ہی تو آئے ہیں، ابھی تو ہمیں یہاں کی آب و ہوا کا بھی نہیں پتہ، ابھی پڑوسی کے بارے میں مجھے کیسے معلوم ہوسکتا ہے۔‘‘ میں قدرے چڑھ کر بولا۔ ابھی ابھی میں ...

مزید پڑھیے

دیر سے رکی ہوئی گاڑی

گاڑی چلتے چلتے۔۔۔ اچانک۔۔۔ بالکل اچانک رک گئی۔ باہر گھپ اندھیرا۔۔۔ دور دور تک روشنی وغیرہ کا کوئی اتہ پتہ نہیں۔ شاید کوئی گھنا ویرانہ تھا یا پھر کوئی بیاباں۔۔۔ ’’گاڑی کیوں رک گئی۔۔۔؟‘‘ ’’کسی نے چین تو نہیں کھینچی۔۔۔؟‘‘ ’’شاید نہیں۔۔۔ ایسا ہوتا تو پھر گارڈ اور ...

مزید پڑھیے

سوا نیزے پر سورج

میری بڑی بیٹی سامنے کھڑی مسکرا رہی تھی۔ میں نے پوچھا، ’’کھیل چکیں؟‘‘ ’’کیا کھیلیں؟‘‘ اس نے ہوا میں دونوں ہاتھ اٹھاکر جھلا دیے۔ ’’کیرم کیوں نہیں کھیلتیں؟‘‘ ’’آپ تھوڑی دیر بعد کہیں گے تم لوگ شور کرتے ہو۔۔۔؟ اور پھر شگوفہ کھیلنے بھی تونہیں دیتی۔۔۔ تھوڑی تھوڑی دیر ...

مزید پڑھیے

روح سے لپٹی ہوئی آگ

سوکھی گھاس، نئے نوٹوں کے طرح کڑکڑاتے نعرے جو سکہ رائج الوقت بنے ہوئے ہیں، ہر چنگاری کو قبول کرنے اور بھڑکتے ہوئے شعلہ میں تبدیل کردینے والا دماغ۔۔۔ ہر دوسرا شخص یا چند اشخاص کا گروہ، جو میں نہیں ہوں، یا ہم نہیں ہیں، سازشیں بنتی ہوئی آنکھیں، مسکراہٹوں کو کدورتوں، نفرتوں اور ...

مزید پڑھیے

منیر کی اماں

منیر کی اماں یوں تو اب نوے پیٹے میں تھیں، لیکن کمر اتنی ہی خمیدہ تھی جنتی بیس سال اُدھر تھی، چہرہ کی جھریوں میں کچھ اضافہ ضرور ہوگیا تھا لیکن ایسا زیادہ فرق بھی نہیں ہوا تھا کہ دس بارہ برس بعد دیکھنے پربھی پہچاننے میں کوئی دقت ہو، پہلے اکنی ایک فٹ کے فاصلے سے دیکھ لیتی تھیں۔ اب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 230 سے 233