ستم زدہ کئی بشر قدم قدم پہ تھے
ستم زدہ کئی بشر قدم قدم پہ تھے
شکستہ دل شکستہ گھر قدم قدم پہ تھے
ملے ہیں رہزنوں کی صف میں وہ بھی آخرش
شریک رہ جو راہ بر قدم قدم پہ تھے
ہوا گزر ہمارا کیسے شہر علم میں
کہ نکتہ داں و دیدہ ور قدم قدم پہ تھے
ہے کیا عجب کہ خواب تھا وہ منظر حسیں
ہزاروں لوگ خوش نظر قدم قدم پہ تھے
تھے جوق جوق آس پاس کرگس و عقاب
پرند کچھ شکستہ پر قدم قدم پہ تھے
ہمارا اکبرؔ ایک ہی خدا تھا اور بس!
نثار بت پرست گو صنم صنم پہ تھے