شیر بیچارہ

شیر جنگل میں ہے اداس بہت
جانور کم ہیں اور گھاس بہت
سوچتا ہے کہ کیا کریں اب ہم
کر لیا غور اور قیاس بہت
ما بدولت کا ہو گیا پڑا
تھی کبھی اپنی دھونس دھانس بہت
سب رعایا چلی گئی زو میں
نوکری آئی سب کو راس بہت
سب کے جنگل کو چھوڑ جانے سے
ہو گیا ہے ہمارا لاس بہت
کھانے پینے کے پڑ گئے لالے
چاہیے فیملی کو ماس بہت
بچے ادھم مچائے رکھتے ہیں
ان کو لگتی ہے بھوک پیاس بہت
شيرنی نے بھی روز لڑ لڑ کر
کر دیا ہے ہمارا ناس بہت
وہ سمجھتی ہے آج بھی ہے گا
مال و دولت ہمارے پاس بہت
روز میک اپ کا چاہیے ساماں
اور درکار ہیں لباس بہت
اس سے شکوے شکایتیں سن کر
طعنے دیتی ہے ہم کو ساس بہت
جی میں آتا ہے خود کشی کر لیں
زندگانی سے ہیں نراس بہت
پر کبھی سوچتے ہیں شہر چلیں
سونگھ لی جنگلوں کی باس بہت
جا کے سرکس میں نوکری کر لیں
گر ملیں تو ہیں سو پچاس بہت