صدا کچھ ایسی مرے گوش دل میں آتی ہے

صدا کچھ ایسی مرے گوش دل میں آتی ہے
کوئی بنائے کہن جیسے لڑکھڑاتی ہے


رچا ہوا ہے فضاؤں میں ایک اتھاہ ہراس
دماغ شل ہے مگر روح سنسناتی ہے


مجھے یقین ہے آندھی کوئی اٹھی ہے کہیں
کہ لو چراغ شبستاں کی تھرتھراتی ہے


امید یاس کے گہرے خموش جنگل میں
ہوائے شام کی مانند سرسراتی ہے


سوال ہے غم ہستی کے بیت جانے کا
یہ زندگی تو بہرحال بیت جاتی ہے


خیال عمر گزشتہ ذرا توقف کر
زمین قدموں کے نیچے سے نکلی جاتی ہے


میں اپنی آگ میں جل کر کبھی کا خاک ہوا
یہ زندگی مجھے کیا خاک میں ملاتی ہے


نشانہ باز فلک تیرے ناوکوں کی خیر
کہ جن کی زد پہ مرے حوصلوں کی چھاتی ہے


لچک ہی جاتی ہے شاخ اپنے آشیاں کی بھی
چمن میں گاتی ہوئی جب بہار آتی ہے


فغان درد لبوں پر نہ آئیو زنہار
مری سلیقہ شعاری پہ بات آتی ہے


ادھر یہ گریۂ ابر اور ادھر وہ خندۂ برق
مزاج دہر مرے دوست طنزیاتی ہے


رہین رسم روایت ہو جس کی بت شکنی
وہ بت شکن بھی حقیقت میں سومناتی ہے


بپا ہے شور قیامت دماغ میں اخترؔ
زبان خامہ مگر زمزمے لٹاتی ہے