شاعری

کیا دیکھتا ہے حال کے منظر ادھر بھی دیکھ

کیا دیکھتا ہے حال کے منظر ادھر بھی دیکھ ماضی کے نقش یاد کی دیوار پر بھی دیکھ دیکھے ہیں میرے عیب تو میرا ہنر بھی دیکھ سودا ہے جس میں اپنا انا کا وہ سر بھی دیکھ لے کام مجھ سے سخت اڑانوں کا تو مگر پہلے مری نگاہ مرے بال و پر بھی دیکھ چہرے کے رنگ و نور کو میرا ہنر سمجھ مجھ کو مری نظر ...

مزید پڑھیے

ہجر میں تیرے تصور کا سہارا ہے بہت

ہجر میں تیرے تصور کا سہارا ہے بہت رات اندھیری ہی سہی پھر بھی اجالا ہے بہت مانگ کر میری انا کو نہیں دریا بھی قبول اور بے مانگ میسر ہو تو قطرہ ہے بہت یہ تو سچ ہے کہ شب غم کو سنوارا تم نے چشم تر نے بھی مرا ساتھ نبھایا ہے بہت بات کرنا تو کجا اس سے تعارف بھی نہیں عمر بھر جس کو ہر اک حال ...

مزید پڑھیے

جو تری محفل سے ذوق خام لے کر آئے ہیں

جو تری محفل سے ذوق خام لے کر آئے ہیں اپنے سر وہ خود ہی اک الزام لے کر آئے ہیں زندگی کے نرم کاندھوں پر لیے پھرتے ہیں ہم غم کا جو بار گراں انعام لے کر آئے ہیں وقت کے ناداں پرندے زعم دانائی کے گرد خوبصورت خواہشوں کے دام لے کر آئے ہیں ایک منظر پر نظر ٹھہرے تو ٹھہرے کس طرح ہم مزاج ...

مزید پڑھیے

اپنی جولاں گاہ زیر آسماں سمجھا تھا میں

اپنی جولاں گاہ زیر آسماں سمجھا تھا میں آب و گل کے کھیل کو اپنا جہاں سمجھا تھا میں جس دل نا عاقبت اندیش نے چھوڑا تھا ساتھ ایسے دیوانے کو میر کارواں سمجھا تھا میں آنکھ بند ہوتے ہی مجھ پر کھل گیا راز حیات زیست کو دنیا میں عمر جاوداں سمجھا تھا میں ان کے قبضے میں ہے جنت ان کے قبضے ...

مزید پڑھیے

ہوا دے کر دبے شعلوں کو بھڑکایا نہیں جاتا

ہوا دے کر دبے شعلوں کو بھڑکایا نہیں جاتا دکھا کر جام مے پیاسوں کو ترسایا نہیں جاتا نہ لے جا دور گلشن سے ارے صیاد بلبل کو کہ بیمار محبت پر ستم ڈھایا نہیں جاتا تری تر دامنی کو دیکھ کر کچھ شک سا ہوتا ہے کہ دھبہ دامن معصوم پر پایا نہیں جاتا ہیں دونوں نور کے ٹکڑے مگر حفظ مراتب ...

مزید پڑھیے

نکہت جو تری زلف معنبر سے اڑی ہے

نکہت جو تری زلف معنبر سے اڑی ہے کب خلد میں خوشبو وہ گل تر سے اڑی ہے حسرت بھری نظروں سے اسے دیکھ رہا ہوں وہ آب جو چلتے ہوئے خنجر سے اڑی ہے اک قابض ارواح کے ہم راہ مری روح پیکر سے جو نکلی تو برابر سے اڑی ہے وحشت کے سبب جب مرا گھر ہو گیا ویراں تب گھر کے اجڑنے کی خبر گھر سے اڑی ...

مزید پڑھیے

تو سمجھتا ہے حوادث ہیں ستانے کے لیے

تو سمجھتا ہے حوادث ہیں ستانے کے لیے یہ ہوا کرتے ہیں ظاہر آزمانے کے لیے تندیٔ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے کامیابی کی ہوا کرتی ہے ناکامی دلیل رنج آتے ہیں تجھے راحت دلانے کے لیے چرخ کج‌ رفتار ہے پھر مائل جور و ستم بجلیاں شاہد ہیں خرمن کو ...

مزید پڑھیے

حال موسم کا ہی پوچھے گا وہ جب پوچھے گا

حال موسم کا ہی پوچھے گا وہ جب پوچھے گا مجھ سے کب میری اداسی کا سبب پوچھے گا اس سے ملنے پہ خوشی کیسے چھپائی جائے کیا بتائیں گے وہ جب وجہ طرب پوچھے گا کس کو معلوم ہیں اس دور میں آداب نظر کون اب مرحلۂ ترک طلب پوچھے گا

مزید پڑھیے

خسارے کا سودا سبھی نے کیا ہے

خسارے کا سودا سبھی نے کیا ہے بتاؤ محبت نے کیا دے دیا ہے سبق لغزشوں سے یہ ہم نے لیا ہے سنبھلنا ہی سب سے بڑا تجربہ ہے کسی بے وفا سے نہ شکوہ گلہ ہے وفا سے ہی اپنی ہمیں کیا ملا ہے سندیسہ ملا یاد کرنے کا جب سے تجھے بھولنا پھر سے مشکل ہوا ہے ثبوت اور کیا دوں میں اپنی وفا کا دعاؤں میں ...

مزید پڑھیے

پھولوں کو شرمسار کیا ہے کبھی کبھی

پھولوں کو شرمسار کیا ہے کبھی کبھی کانٹوں سے ہم نے پیار کیا ہے کبھی کبھی موقوف چاک جیب و گریباں ہی پر نہیں دامن بھی تار تار کیا ہے کبھی کبھی میں مضطرب رہا ہوں یہ سچ ہے فراق میں ان کو بھی بے قرار کیا ہے کبھی کبھی دل کا دیا جلا کے خود اپنے ہی خون سے شب شب بھر انتظار کیا ہے کبھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 8 سے 5858