سر بستہ حیات ذات گنجان مری
سر بستہ حیات ذات گنجان مری دریافت نہیں اس قدر آسان مری ہالے سے بنے ہوئے ہیں میرے اطراف خود میرا مقدر نہیں پہچان مری
سر بستہ حیات ذات گنجان مری دریافت نہیں اس قدر آسان مری ہالے سے بنے ہوئے ہیں میرے اطراف خود میرا مقدر نہیں پہچان مری
کب فکر و خیال کا اثاثہ کم ہے لکھا ہے بہت لوگوں نے سوچا کم ہے ہر چند کمی نہیں ہے لفظوں کی مگر لفظوں کے برتنے کا سلیقہ کم ہے
دنیا کبھی ہو سکی نہ ہم راز مری کیا جانے تھی کس فضا میں پرواز مری لہجہ میں کسی اور کا اپنا نہ سکا لے ڈوبی مجھے منفرد آواز مری
ہر شے بہ ہر انداز الگ ہوتی ہے ہر فکر کی پرواز الگ ہوتی ہے ہر عہد کو دیکھ اس کے پس منظر میں ہر عہد کی آواز الگ ہوتی ہے
کس نہج سے ہم نے اک کہانی کہہ دی دو باتوں میں بات دل کی ساری کہہ دی لفظوں کی کفایت بھی ہنر ہے اکبرؔ جب کہہ نہ سکے غزل رباعی کہہ دی
ہے سوئے فلک نظر تماشا کیا ہے انصاف کرو دونوں میں کون اچھا ہے آنگن میں نکل کے چاند کیا دیکھتے ہو خود چاند تمہیں دیکھنے کو نکلا ہے
مانا واعظ بڑا ہی علامہ ہے محشر کا زبان پہ اس کے ہنگامہ ہے کیوں کر نہ ملے نجات سب کو مائلؔ قسمت کے مطابق تو عمل نامہ ہے
ثابت ہے تن میں بادشاہی دل کی پر کی تری نخوت نے تباہی دل کی زاہد یہ غرور داغ پیشانی پر منہ پر نکل آئی ہے سیاہی دل کی
یا رب مرے دل میں ہے اجالا تیرا آئینے کی ہے بغل میں جلوا تیرا مائلؔ کیوں آپ منہ نہ دیکھے اپنا یاں بھی تو چمک رہا ہے چہرا تیرا
ہے عرش بھی یک فرش قدم کا تیرے تقدیر نوشتہ ہے ہے قلم کا تیرے رحمت کے بقیہ سے بنا ہے دوزخ اللہ رے شعبدہ کرم کا تیرے