آسودگیٔ ذات نہیں ہو سکتی
آسودگیٔ ذات نہیں ہو سکتی سیرابئ جذبات نہیں ہو سکتی جو اتنی تنک مایہ ہو دنیا اس میں میری گزر اوقات نہیں ہو سکتی
آسودگیٔ ذات نہیں ہو سکتی سیرابئ جذبات نہیں ہو سکتی جو اتنی تنک مایہ ہو دنیا اس میں میری گزر اوقات نہیں ہو سکتی
اک تیر کلیجے میں پرویا ہم نے اک زخم دل زار میں بویا ہم نے لوٹا کیے پھر عمر بھر آہوں کے مزے یوں جنت و دوزخ کو سمویا ہم نے
آتا نہیں سانسوں میں مزہ پنے کا کھلتا ہی نہیں زخم مرے سینے کا ہر روز اگر ایک رباعی نہ کہوں ہوتا نہیں حق جیسے ادا جینے کا
آفات و حوادث سے بھری ہے دنیا دکھڑوں سے غرض پٹی پڑی ہے دنیا زنہار تعلی نہیں میرا یہ قول میرے ہی لیے خلق ہوئی ہے دنیا
قبر در و دیوار سے آگے نکلے ہر ثابت و سیار سے آگے نکلے جولاں ہوئے ہم جو با جلال و جبروت آواز کی رفتار سے آگے نکلے
نفرت کی ہوا بن میں چلائی کس نے جل اٹھی زمیں آگ لگائی کس نے اٹھتی ہیں جہاں کی انگلیاں کس کی طرف یاں جیت کے ہاری ہے لڑائی کس نے
برباد سکون در و دیوار نہ ہو بے حرمتیٔ کوچہ و بازار نہ ہو روکو روکو ان آندھیوں کو روکو تہذیب کا شامیانہ مسمار نہ ہو
شعلے ہیں کہیں تیز کہیں ہیں مدھم جاری ہے عمل اک ارتقا کا پیہم ہیں اس کی لپیٹ میں سمندر صحرا پھیلی ہے نمو کی آگ عالم عالم
منجدھار میں ہوں پاس کنارا بھی نہیں بس میں مرے اس درد کا چارہ بھی نہیں دنیا کی روش سے خوش نہیں ہوں لیکن دنیا کو بدل دینے کا یارا بھی نہیں
ملتا نہیں مجھ کو نقش اپنا مجھ میں دنیا ہے کہ ڈھونڈھتی ہے دنیا مجھ میں گمبھیر بہت ہے شخصیت میری بھی دریا مجھ میں ہے اور صحرا مجھ میں