یہ آج کی دنیا بھی ہے مرنے والی
یہ آج کی دنیا بھی ہے مرنے والی اک زندگیٔ نو ہے ابھرنے والی ہم پچھلی صدی میں ہیں ابھی اور یہاں موجودہ صدی بھی ہے گزرنے والی
یہ آج کی دنیا بھی ہے مرنے والی اک زندگیٔ نو ہے ابھرنے والی ہم پچھلی صدی میں ہیں ابھی اور یہاں موجودہ صدی بھی ہے گزرنے والی
تشکیک نے ایقان سے محروم رکھا تدقیق نے عرفان سے محروم رکھا القصہ نہ در پے ہو ہمارے کہ ہمیں اللہ نے ایمان سے محروم رکھا
تسکین غم دل کے لیے جیتا ہوں جیتا بھی نہیں، چاک جگر سیتا ہوں اے گردش ایام تری عمر دراز میں بادہ نہیں تیرا لہو پیتا ہوں
اس طرح طبیعت کبھی شیدا نہ ہوئی یہ آگ محبت میں بھی پیدا نہ ہوئی اللہ رے معبودۂ احساس و خیال وہ صبح جو مطلع پہ ہویدا نہ ہوئی
تقدیر ازل آہ تو بھرتی ہوگی روح ابدی درد سے مرتی ہوگی سچ یہ ہے کہ ہم اہل جہاں کیا جانیں جو خالق عالم پہ گزرتی ہوگی
ہرگز نہیں جینے سے دل زار خفا سینے میں مچلتی ہے تمنائے وفا چلتے رہے لیکن نہ ہوئے خاک اب تک اک ڈھونگ ہے اے چرخ تری سعیٔ جفا
جو ہو نہ سکا ہم سے وہ کر جاؤ تم اس پار سے اس پار اتر جاؤ تم ہم دیتے رہے چرخ فلک کو الزام ممکن ہو تو اس سے بھی گزر جاؤ تم
پھرتی ہوں لیے سوز حیات آنکھوں میں ہے جلوہ نما غم کی برات آنکھوں میں عمر اپنی کچھ اس طرح بتائی میں نے جس طرح کوئی کاٹ دے رات آنکھوں میں
سانسوں میں لیے کرب و بلا جیتا ہوں سلتے نہیں جو زخم انہیں سیتا ہوں جی بھر کے زمانے نے پیا خوں میرا باقی جو بچا اس کو میں خود پیتا ہوں
جینے کی بظاہر نہیں کچھ آس ہمیں لے ڈوبے گی اک روز یہی پیاس ہمیں لو ختم ہوا آج فریب امید اب یاس کی جانب سے بھی ہے یاس ہمیں