اے بخت! مزے کچھ تو اٹھاؤں میں بھی
اے بخت! مزے کچھ تو اٹھاؤں میں بھی لذت جو مٹانے میں ہے پاؤں میں بھی کچھ تو نے ملایا مجھے خاک و خوں میں کچھ خاک میں اب خود کو ملاؤں میں بھی
اے بخت! مزے کچھ تو اٹھاؤں میں بھی لذت جو مٹانے میں ہے پاؤں میں بھی کچھ تو نے ملایا مجھے خاک و خوں میں کچھ خاک میں اب خود کو ملاؤں میں بھی
وہ یاس کہ امید کہ چشمے پھوٹیں وہ غم کہ طرب زار بہاریں لوٹیں کیا چیز ہے واللہ یہ مسلک اپنا وہ کفر کہ ایمان کے چھکے چھوٹیں
بت لاکھوں محبت میں تراشے ایسے سینے میں بہت دفن ہیں لاشے ایسے یہ حسرت و ارمان و تمنا کے جلوس دیکھے ہیں بہت ہم نے تماشے ایسے
کچھ اپنی ستائش میں مزہ آتا ہے کچھ عجز و نیائش میں مزہ آتا ہے لذت کی تلاش آہ کہاں لے آئی زخموں کی نمائش میں مزہ آتا ہے
ماضی کی روایات میں گڑ جاتے ہیں مردوں کی طرح قبر میں سڑ جاتے ہیں میں دوست سے بچھڑا ہوا شاعر ہی سہی لوگ اپنے زمانے سے بچھڑ جاتے ہیں
اک ٹیس کلیجے کو مسلتی ہی رہی اک سوت خیالوں میں ابلتی ہی رہی تاریک رہا جادۂ ہستی لیکن اک شمع مرے سینے میں جلتی ہی رہی
سوتے میں کوئی آہ بھری تو ہوگی سینے میں کوئی ہوک اٹھی تو ہوگی رونے کی اک آواز کبھی پچھلے پہر صدقے تری نیندوں کے سنی تو ہوگی
کچھ فیض تو میں نے بھی لٹایا بارے کچھ رنگ تو محفل میں جمایا بارے سرمایۂ عبرت ہوں زمانے کے لیے دنیا کے کسی کام تو آیا بارے
اس ہاتھ سے جو کچھ میں لیا کرتا ہوں اس ہاتھ سے پھر دے بھی دیا کرتا ہوں انفاس کی قیمت ہیں یہ میرے اشعار میں قرض سے آزاد جیا کرتا ہوں
کیا خاک کرم ہے جو مجھے تو بخشے واللہ ستم ہے جو مجھے تو بخشے بخشوں گا نہ میں تیرے جہاں کو یارب تجھ کو بھی قسم ہے جو مجھے تو بخشے