رسوا وہ ہوا جو مست پیمانہ ہوا
رسوا وہ ہوا جو مست پیمانہ ہوا لپکا جو سایہ پر وہ دیوانہ ہوا انگلینڈ سے اپنا دل جو لایا نہ درست محروم ادھر ادھر سے بیگانہ ہوا
رسوا وہ ہوا جو مست پیمانہ ہوا لپکا جو سایہ پر وہ دیوانہ ہوا انگلینڈ سے اپنا دل جو لایا نہ درست محروم ادھر ادھر سے بیگانہ ہوا
اکبرؔ مجھے شک نہیں تیری تیزی میں اور تیرے بیان کی دلآویزی میں شیطاں عربی سے ہند میں ہے بے خوف لاحول کا ترجمہ کر انگریزی میں
حاسد تجھ پر اگر حسد کرتا ہے کر صبر کہ خود وہ کار بد کرتا ہے اپنی پستی کو کر رہا ہے محسوس اور تیری بلندیوں سے کد کرتا ہے
تکمیل میں ان علوم کے ہو مصروف نیچر کی جو طاقتوں کو کر دیں مکشوف لیکن تم سے امید کیا ہو کہ تمہیں عہدہ مطلوب ہے وطن ہے مالوف
ہے صاف عیاں حرم سرا کا مطلب بیگانوں کے واسطے ہے اک حد ادب ممکن ہو اگر تو اس کو قائم رکھو عزت کے نشاں اور تو مٹ گئے سب
دنیا کرتی ہے آدمی کو برباد افکار سے رہتی ہے طبیعت ناشاد دو چیزیں ہیں بس محافظ دل کی عقبیٰ کا تصور اور اللہ کی یاد
پابند اگرچہ اپنی خواہش کے رہو لائل سبجیکٹ تم برٹش کے رہو قانون سے فائدہ اٹھانا ہے اگر حامی نہ کسی خراب سازش کے رہو
ہر ایک کو نوکری نہیں ملنے کی ہر باغ میں یہ کلی نہیں کھلنے کی کچھ پڑھ کے تو صنعت و زراعت کو دیکھ عزت کے لیے کافی ہے اے دل نیکی
الفت نہ ہو شیخ کی تو عزت ہی سہی مرشد نہ بناؤ ان کو دعوت ہی سہی بگڑا ہے جو دل زباں ہی کو روکو رونا جو نہ آئے غم کی صورت ہی سہی
جب تک ہے ہم میں قومی خصلت باقی بے شک پردے کی ہے ضرورت باقی چالیس برس کی بات ہے یہ شاید بعد اس کے رہے گی پھر نہ حجت باقی