شاعری

بہار آئی مگر خیالی

بہار آئی مگر خیالی صبا نے پھولوں پہ خاک ڈالی میں کس کو اپنا حریف سمجھوں کہ سب کی صورت ہے بھولی بھالی حقیقتوں پہ نگاہ رکھو نہیں ہے سب کچھ یہاں خیالی کلی نے شاید کہ پٹ ہیں کھولے اثر چمن میں ہے ڈالی ڈالی نہ برق سوزاں نہ باد‌ صر‌صر گلوں کا قاتل چمن کا والی وہی ہے سب سے عظیم ...

مزید پڑھیے

وہم و گماں جو حد سے گزرتے چلے گئے

وہم و گماں جو حد سے گزرتے چلے گئے ہم ریزہ ریزہ ہو کے بکھرتے چلے گئے جلوہ تمہارا ایک نظر دیکھنے کے بعد دل میں نقوش عشق نکھرتے چلے گئے اعجاز کم نہیں تھا کچھ ان کے جمال کا ہم دید کی طلب میں سنورتے چلے گئے دیں منزلوں نے ان کو صدائیں بہت مگر دیوانے اپنی دھن میں گزرتے چلے گئے شاید ...

مزید پڑھیے

بن کے خوشبو جو چل پڑی ہے ابھی

بن کے خوشبو جو چل پڑی ہے ابھی کوئی تازہ کلی کھلی ہے ابھی عین ممکن ہے یاد ہو ان کی دل میں اک شمع سی جلی ہے ابھی کیوں کھٹکتی ہے سب کی نظروں میں شاخ نازک پہ جو کلی ہے ابھی اس کے سائے میں امن پلتا تھا وہ جو دیوار اک گری ہے ابھی بے خبر کیسے ہو گئے رہبر زندگی راہ میں پڑی ہے ...

مزید پڑھیے

کبھی خود کو کبھی خوابوں کو صدا دیتے ہیں

کبھی خود کو کبھی خوابوں کو صدا دیتے ہیں کیسی دیوار اٹھاتے ہیں گرا دیتے ہیں آؤ دو چار قدم چل کے بھی دیکھیں یارو ہم سفر اپنے کہاں ہم کو دغا دیتے ہیں جانے کیا سوچ کے اے دوست یہ ارباب چمن زہر پاشی سے وہ پودوں کو جلا دیتے ہیں یہ گزر گاہ کے پتھر تری ٹھوکر میں سہی ہر قدم پر تجھے منزل کا ...

مزید پڑھیے

چمن والو حقیقت ہم سے بتلائی نہیں جاتی

چمن والو حقیقت ہم سے بتلائی نہیں جاتی گلوں کے دل پہ جو بیتی وہ سمجھائی نہیں جاتی چمن کا حسن بالآخر گلوں کی آبرو ٹھہرا یہ عزت شاہ راہ عام پہ لائی نہیں جاتی غم دوراں کی الجھن ہو کہ وحشت ہو محبت کی شکستہ دل کی حالت بر زباں لائی نہیں جاتی ارے کم ظرف مے نوشی کا یہ کوئی سلیقہ ہے سر ...

مزید پڑھیے

شمع سر دھنتی رہی محفل میں پروانوں کے ساتھ

شمع سر دھنتی رہی محفل میں پروانوں کے ساتھ آپ یاد آتے رہے کچھ تلخ عنوانوں کے ساتھ شام غم شام جدائی درد دل درد جگر سارے قصے ختم ہو جائیں گے دیوانوں کے ساتھ شیشہ و پیمانہ ہی زیبائش مے خانہ ہیں چھیڑ شیشے کی نہیں اچھی ہے پیمانوں کے ساتھ کیسا وہ دلچسپ منظر ہوگا اے جان عزیز وہ ہوں ...

مزید پڑھیے

شہر میں لاکھ چراغاں ہو تو کیا ہوتا ہے

شہر میں لاکھ چراغاں ہو تو کیا ہوتا ہے میرے گھر میں وہی مٹی کا دیا ہوتا ہے درد سینے میں مرے جب بھی مہک اٹھتا ہے زخم یادوں کا تری اور ہرا ہوتا ہے داستاں غم کی سناؤں یہ ضروری تو نہیں نفس مضمون تو چہرے پہ لکھا ہوتا ہے شدت غم سے نہ مٹ جائے کہیں میرا وجود روز اک غم مری چوکھٹ پہ کھڑا ...

مزید پڑھیے

زخم دل ہم دکھا نہیں سکتے

زخم دل ہم دکھا نہیں سکتے دل کسی کا دکھا نہیں سکتے وہ یہاں تک جو آ نہیں سکتے کیا مجھے بھی بلا نہیں سکتے وعدہ بھی ہے تو ہے قیامت کا جس کو ہم آزما نہیں سکتے آپ بھی بحر اشک ہیں گویا آگ دل کی بجھا نہیں سکتے ان سے امید وصل اے توبہ وہ تو صورت دکھا نہیں سکتے ان کو گھونگھٹ اٹھانے میں ...

مزید پڑھیے

اتنا تو جانتے ہیں کہ عاشق فنا ہوا

اتنا تو جانتے ہیں کہ عاشق فنا ہوا اور اس سے آگے بڑھ کے خدا جانے کیا ہوا شان کرم تھی یہ بھی اگر وہ جدا ہوا کیا محنت طلب میں نہ حاصل مزا ہوا میں اور کوئے عشق مرے اور یہ نصیب ذوق فنا خضر کی طرح رہ نما ہوا پہچانتا وہ اب نہیں دشمن کو دوست سے کس قید سے اسیر محبت رہا ہوا شایان درگزر ہے ...

مزید پڑھیے

قطرہ وہی کہ روکش دریا کہیں جسے

قطرہ وہی کہ روکش دریا کہیں جسے یعنی وہ میں ہی کیوں نہ ہوں تجھ سا کہیں جسے وہ اک نگاہ اے دل مشتاق اس طرف آشوب گاہ حشر تمنا کہیں جسے بیمار غم کی چارہ گری کچھ ضرور ہے وہ درد دل میں دے کہ مسیحا کہیں جسے اے حسن جلوۂ رخ جاناں کبھی کبھی تسکین چشم شوق نظارا کہیں جسے اس ضعف میں تحمل حرف ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4631 سے 4657