ماضی پرست کی حماقت
ایک ماضی پرست ادیب کسی جگہ فخریہ انداز میں بیان کررہے تھے :
’’پچھلے دنوں اپنے مکان کی تعمیر کے لئے مجھے اپنے گاؤں جانا پڑا۔ جب زمین کھدوائی گئی تو بجلی کی تاریں دستیاب ہوئیں اور بجلی کی وہ تاریں اندازاً دو تین ہزار سال پرانی تھیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دو تین ہزار سال پہلے بھی ہمارے ملک میں بجلی موجود تھی۔‘‘
فراق گورکھپوری بھی وہیں موجود تھے ۔ جب یہ بات سنی تو کمال متانت سے کہنے لگے :
’’جی ہاں، اور میں نے اپنا مکان بنوانے کے لئے جب زمین کھدوائی تو کچھ بھی نہیں ملا۔
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پرانے وقتوں میں ہمارے ملک میں وائر لیس بھی رائج تھا۔‘‘