لگوں گا خوش مگر ناراض ہوں میں

لگوں گا خوش مگر ناراض ہوں میں
زمانہ کا نیا انداز ہوں میں


بہت خوش ہوں تمہیں خوش دیکھ کر میں
یہ غم بھی ہے نظر انداز ہوں میں


جسے مجھ پر یقیں بالکل نہیں ہے
اک ایسے شخص کا ہم راز ہوں میں


اسے انجام کی جلدی بہت تھی
میں کہتا رہ گیا آغاز ہوں میں


فقط سننا نہیں محسوس کرنا
خموشی میں چھپی آواز ہوں میں


نئی دھن پر بجایا جا رہا ہوں
پرانے دور کا اک ساز ہوں میں


مجھے دشمن سمجھنا ہے سمجھ لو
تمہارا دوست ہوں دم ساز ہوں میں