کتاب شوق میں ان بند باب آنکھوں کو

کتاب شوق میں ان بند باب آنکھوں کو
نہ سہل جان مری جان خواب آنکھوں کو


میں اب بھی پڑھتا ہوں تزئین شعر و فن کے لئے
تمام رات تری خوش نصاب آنکھوں کو


قلم امانت حق تھا سو لکھ دیا میں نے
شگفتہ لمس لبوں کو شراب آنکھوں کو


یہ فاصلوں کی حقیقت یہ قربتوں کا طلسم
عذاب ہیں یہ تعلق کے خواب آنکھوں کو


خموشیوں کی بھی اپنی زبان ہوتی ہے
کہ مل ہی جاتا ہے عاصمؔ جواب آنکھوں کو