خود پہ گزرے عذاب لکھتی ہوں

خود پہ گزرے عذاب لکھتی ہوں
آج کر کے حساب لکھتی ہوں


بحر دل میں ہے اک سناٹا
اور میں اضطراب لکھتی ہوں


خود کو ذرے سے مختصر کر کے
آپ کو آفتاب لکھتی ہوں


جب کوئی پھول مسکراتا ہے
اس کو اپنا شباب لکھتی ہوں


ناز کر کر کے آج کل خود کو
آپ کا انتخاب لکھتی ہوں


میری اچھائی کی سند یہ ہے
خود کو سب سے خراب لکھتی ہوں


ان کو کوئی سمنؔ لکھے کچھ بھی
میں خدا کی کتاب لکھتی ہوں