ہر شے بہ ہر انداز الگ ہوتی ہے

ہر شے بہ ہر انداز الگ ہوتی ہے
ہر فکر کی پرواز الگ ہوتی ہے
ہر عہد کو دیکھ اس کے پس منظر میں
ہر عہد کی آواز الگ ہوتی ہے