ہم راہ عدم سے اضطراب آیا ہے احمد حسین مائل 07 ستمبر 2020 شیئر کریں ہم راہ عدم سے اضطراب آیا ہے میرے لیے دنیا میں عذاب آیا ہے طفلی میں پڑی تھی دونوں ہاتھوں پر مار اب دل کی ہے باری کہ شباب آیا ہے