ہم راہ عدم سے اضطراب آیا ہے

ہم راہ عدم سے اضطراب آیا ہے
میرے لیے دنیا میں عذاب آیا ہے
طفلی میں پڑی تھی دونوں ہاتھوں پر مار
اب دل کی ہے باری کہ شباب آیا ہے