ہم بے گھروں کے دل میں جگاتی ہے ڈر گلی
ہم بے گھروں کے دل میں جگاتی ہے ڈر گلی
سوتی ہے آدھی رات کو جب بے خبر گلی
مجھ کو تو جان بوجھ کے بھٹکا دیا گیا
سرکار کا مکان کہاں اور کدھر گلی
کچھ سال قبل میرے بھی حصے میں آئی تھی
اک دل نشین شام اور اک منتظر گلی
چل تو پڑا ہوں شوق مکاں میں ترے مگر
آگے سے بند یہ بھی ملے گی اگر گلی
سینے سے تیری یاد لگا کر میں سو گیا
ہر چند شور کرتی رہی رات بھر گلی
اک عرصے بعد ادھر سے جو میرا گزر ہوا
تم بن سبھی اداس ملے خاص کر گلی
انجان شہر میں تھا اکیلا نکل پڑا
ذیشانؔ تجھ کو ذہن میں رکھنی تھی ہر گلی