فرقت سے ہم کنار تو تو بھی ہے میں بھی ہوں

فرقت سے ہم کنار تو تو بھی ہے میں بھی ہوں
ملنے کو بے قرار تو تو بھی ہے میں بھی ہوں


دنیا میں سر اٹھا کے کہاں تک چلیں گے ہم
دنیا سے شرمسار تو تو بھی ہے میں بھی ہوں


ایسا کریں کہ بانٹ لیں آپس کے رنج و غم
حالات کا شکار تو تو بھی ہے میں بھی ہوں


منزل کی آرزو میں بھٹکنے کا شوق رکھ
اک راہ کا غبار تو تو بھی ہے میں بھی ہوں


محفل میں اس کی جا کے مگر کیا کریں گے ہم
غیروں میں اب شمار تو تو بھی ہے میں بھی ہوں


جو دل فریب ہیں وہی منظر ہیں دل نشیں
کہنے کو ہوشیار تو تو بھی ہے میں بھی ہوں


ببیاکؔ رخ پہ چھانے لگے ہیں خزاں کے رنگ
گو حاصل بہار تو تو بھی ہے میں بھی ہوں