ایک چھبیلی عید

ایک چھبیلی نئی نویلی سندر پیاری لڑکی
نئے چاند کی نورانی کشتی سے نیچے اتری
آسمان سے لے کر زمیں تک پھول گرائے اس نے
جدھر جدھر سے گزری گھر آنگن مہکائے اس نے


اک البیلی نئی نویلی دودھ سی اجلی لڑکی
شیر خورمہ اور سوئیاں کھاتی کھلاتی آئی
نردھن اور دھنوان سبھی سے ہنستی ہنساتی آئی
قدم قدم پر خوشیوں کی سوغات لٹاتی آئی


ایک چھبیلی نئی نویلی نٹکھٹ چنچل لڑکی
رنگ برنگی پوشاکوں میں میلہ گھوم رہی ہے
جھپٹ رہی ہے سب سے عیدی خوش ہے جھوم رہی ہے
آج تو سارے دن ہی گویا اس کی دھوم رہی ہے


ایک چھبیلی نئی نویلی عید چلی آئی ہے
کتنی خوشیاں کتنے نغمے دامن میں لائی ہے