سرکس کی سادہ سی کہانی
جیپ چل رہی تھی۔ وہ ابھی کہیں پہنچے نہیں تھے۔ تین چار گھنٹے سے جیپ چل رہی تھی۔ جیپ والا کسی سرکس کا رنگ ماسٹر تھا جس نے ان دونوں کو پیدل جاتا دیکھ کر بٹھا لیا تھا، ’’ارے پیدل کیوں جا رہے ہو؟ آؤ جی بھائی صاحبو بیٹھو! بیٹھ جاؤ!‘‘بھائی صاحبو اس نے عادتاً کہا ہوگا کیوں کہ جنہیں اس نے بٹھایا تھا ان میں ایک مرد تھا، دوسری عورت۔ رنگ ماسٹر کہیں سے پوری بوتل لگا کے چلا تھا۔ آدمی دل پھینک تھا اور خوب باتیں بنا سکتا تھا۔ کہنے لگا، ’’اب صبح ہونے والی ہے، میرا نشہ ٹوٹ رہا ہے اسی لیے جلدی پہنچنا چاہتا ہوں۔ بھائی صاحبو!‘‘ پھر بولا، ’’دن اگے تک سرکس گراؤنڈ آ جائے گا۔ اور وہاں بھائی صاحبو! میں تم دونوں کو بڑا جنگی ناشتا کراؤں گا۔‘‘
پیچھے بیٹھی عورت اپنے آدمی سے دھیرے سے کچھ کہہ کر ہنسی ہوگی تو رنگ ماسٹر نے جیپ کی رفتار ذرا دھیمی کر کے اونچی آواز میں کہا، ’’ہاں بھائی صاحبو؟ کیا بات ہوگئی؟ ہمیں بھی سناؤ۔ ہم بھی ہنسیں گے۔‘‘عورت انجن کی آواز پر اپنی آواز بلند کر کے بولی، ’’کچھ نہیں جی، بات کیا ہوگی۔‘‘رنگ ماسٹر ٹھٹھا مار کے ہنسا، کچھ تو ہے جس کی رازدھاری ہے۔ بہت دیر سے آپ دونوں بھائی صاحبوں کے راز و نیاز کی آواز آ رہی ہے۔ کیا کوئی موج میلہ چل رہا ہے پیچھے۔۔۔؟ ہاہاہا! ہاں نا بھائی صاحبو؟‘‘
مرد نے کوئی کڑوی بات کہنے کے لیے اسٹارٹ ہی لیا تھا کہ عورت نے اس کے منھ پہ ہاتھ رکھ دیا اور رنگ ماسٹر سے پوچھا، ’’سرکس گراؤنڈ اور کتنی دور ہے؟‘‘ وہ بولا، ’’بس بھائی! سمجھو پہنچ گئے۔ پہلے ہمارا ہی ٹینٹ ہے۔ اس وقت اس میں ہماری بیلا جی سو رہی ہوں گی۔ ان کو تو ہم اٹھائیں گے نہیں۔ وہ کچی نیند سے اٹھ جائیں تو سارا سارا دن گندی گندی گالیاں بکتی ہیں۔ اس لیے آپ بھائی صاحبوں کے لیے ہم خود ہی کوئی ناشتا واشتا تیار کرلیں گے۔۔۔ ہاں بھائی صاحبو!‘‘ مرد نے آدھی جھونجھل، آدھے مسخرے پن میں کہا، ’’اچھا بھائی صاحبا!‘‘ عورت ہنسنے لگی۔
مرد نے پھر پوچھا، ’’مگر بھائی صاحب! تم نے یہ نہیں بتایا کہ یہ بیلاجی کون ہے۔ بیوی ہے تمہاری؟‘‘ رنگ ماسٹر بولا، ’’بیوی ویوی کوئی نہیں۔ وہ رکھیل ہیں ہماری۔‘‘عورت اور زور سے ٹھٹھے مار کے ہنسنے لگی تو ’’بھائی صاحبا‘‘ خود بھی ہنسا، بولا، ’’آپ صاحبوں کو گشتی سرکسوں کا کچھ پتا ہی نہیں ہے، اسی لیے ہنستے ہو۔ ارے ہم اگر اپنے ساتھ کوئی بیوی ویوی رکھیں تو چل چکا سرکس۔ چل ہی نہیں سکتا۔ بالکل بھی نہیں۔‘‘
مرد کو اس کی باتوں میں مزہ آنے لگا تھا،اس نے پوچھا کہ کیوں نہیں چل سکتا؟ کہنے لگا، ’’بیویاں تو ویسے ہی اپنے مردوں کی پتلونیں پھاڑ رکھتی ہیں، ہوشوں حواسوں میں نہیں رہنے دیتیں۔ اور بھائی ہمارا کام جان جوکھم کا کام ہے۔ کوئی ساٹھ فٹ اونچے تار پر چل رہا ہے بھائی صاحبو! تو کسی نے اوپر پیٹرول چھڑک کے، آگ دکھا کے، سوفٹ کی اونچائی سے بالشت بھر کے ٹب میں چھلانگ لگانی ہے۔ کوئی شیر کے منہ میں اپنی کھوپڑی دیے بیٹھا ہے بھائی صاحبو! تو کسی نے ریچھ کے پچھائے میں ہاتھ دے کے کرتب دکھانے شروع کیے ہیں۔۔۔ الغرض سب سرکس والے اپنی جان پر کھیل کے روزی کما رہے ہیں۔ ایسے میں کون عقل سے پیدل طوطیا ہوگا جو اپنے اوپر چڈی گھٹانے کو ایک بیوی بھی رکھے گا۔ نا صاحبو نا! ہم لوگ تو رکھیلوں وکھیلوں سے گزارہ کر لیتے ہیں۔ شروع سے یہی چل رہا ہے۔۔۔ اور کیا!‘‘
عورت ہنستے ہنستے دہری ہوگئی۔ بڑی مشکل سے ہنسی تھام کے ٹکڑوں ٹکڑوں میں بولی، ’’اور یہ جو۔۔۔ رکھیل تمہاری، تمہیں گالی دیتی ہے گندی گندی۔۔۔ یہ کیا ہے؟ اس نے بھی تو تمہارے اوپر چڈھی گانٹھ رکھی ہے؟‘‘ وہ بولا، ’’نابھائی صاحبو! نا۔ بیلا جی ٹائم ٹائم سے گالی نکالتی ہے۔۔۔ وہ جو بولتے ہیں نا کہ تیرے ہونٹ کتنے شیریں ہیں کہ گالیاں کھا کے بھی وہ سسرا بے مزا نہیں ہوتا۔۔۔ تو وہی قصہ ہے بھائی صاحبو! پھر اگر بیلا جی ڈاہ لنگ کبھی بے سری بولنے لگتی ہیں، آؤٹ ہونےلگتی ہیں، تو آپ کافلک شیر رنگ کا ماسٹر ان کی سڑائی بھی کر دیتا ہے۔۔۔ تاہم بیویوں کی سڑائی نہیں کی جا سکتی۔۔۔ بہ وجوہ!‘‘
عورت نے پوچھا، ’’سڑائی کیا ہوتی ہے؟‘‘ فلک شیر رنگ ماسٹر (یہی اس کا نام تھا) بولا، ’’آپ سڑائی نہیں جانتیں بھائی صاحبو؟ ارے پھینٹی لگانے کو بولتے ہیں۔ چارچوٹ کی مار لگائی نہیں کہ بیلا جی پھر گنے کی طرح سیدھی اور میٹھی۔‘‘ مرد نے کہا، ’’ہاں ماسٹر! یہ بتاؤ بیوی کو جو پھینٹی نہیں لگائی جا سکتی اس کے کیا وجوہ ہیں؟‘‘ رنگ ماسٹر بولا، ’’حیرت ہے صاحبو! آپ بیوی والے ہو کے بھی یہ وجہ نہیں جانتے۔۔۔ خیر، اس ٹائم کیوں کہ آپ کی میم صاحب سامنے موجود ہے، یہ نکتے کی باتیں پھر کبھی عرض کروں گا۔ لوجی! آگئیں سرکس گراؤنڈز۔‘‘ انہوں نے سر اٹھا کر دیکھا۔ سب طرف پیلے بلبوں کی جھالریں ٹنگی نظر آ رہی تھیں۔
سورج نکلنے میں دیر تھی۔ ایک عمومی سناٹے میں ڈیزل یا کیروسین سے چلنے والے جنریٹروں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ میلے کچیلے اوور آل پہنے، گھٹنوں تک کے ربڑ کے جوتے چڑھائے بہت سے آدمی جانوروں کو کھانا پانی دینے اور پنجروں کی صفائی کرنے خیموں کے درمیان سے نکل نکل کے آ جا رہے تھے۔ پہیے لگے پنجروں کی ایک قطار خیموں چھولداریوں کے بیچ کھڑی کر دی گئی تھی۔ اب مختلف جانوروں کی بھی ہلکی ہلکی آوازیں آنا شروع ہوگئی تھیں۔ وہ شاید جیپ کی آواز سے بےآرام ہو کر بیدار ہو رہے تھے۔ جیپ رک گئی۔
رنگ ماسٹر انجن بند کر کے اترتے نشے اور شرارت کے ساتھ عورت مرد کو دیکھ کے آنکھ مارتا ہوا پردہ اٹھا، پنجوں کے بل اپنے ٹینٹ میں چلا گیا۔ دو تین منٹ بعد پکنک باسکٹ جیسی بید کی صندوق ٹوکری اٹھائے وہ برآمد ہوا اور ہونٹوں پر انگلی رکھ کے انہیں پیچھے آنے کا اشارہ کرتا خیموں کے بیچ بیچ چلنے گا۔ ڈانگریوں والے ورکر اس کے سائے کو پہچان پہچان کر سلام کر رہے تھے۔
بلبوں کی پیلی روشنی میں سرکس کے خیمے کچھ زیادہ اجاڑ اور صبح کی آوازوں کے ہوتے بھی خاموش اور افسردہ لگ رہے تھے۔ تاہم اس افسردگی اور اجاڑپن میں دور ایک بہت بڑا خیمہ روشنی سے اور چمکیلی آوازوں سے چھلکتا ہوا دکھائی دیا۔ رنگ ماسٹر اپنی پکنک باسکٹ اٹھائے اسی روشن خیمے میں داخل ہوگیا اور اندر رک کر اپنے مہمانوں کا انتظار کرنے لگا۔ اب وہ اونچی کھلکھلاتی آواز میں انہیں خیمے میں چلے آنے کو کہہ رہا تھا، ’’چلے آؤ بھائی صاحبو! آجاؤ۔ رکنا نہیں ہے۔ توقف نہیں کرنا ہے۔ یہ خیمہ بے تکلف ہے بھائی صاحبو! شیروں، اژدہوں سے پنجا کرنے والے دلیروں کے لیے طاقت سے بھرپور ایک دم بم فولادی ناشتے اسی خیمے میں ملیں گے۔ سمجھے بھائی صاحبو! تکلف نہیں کرنا ہے، یعنی توقف نہیں کرنا ہے۔ بس آجاؤ۔‘‘ رنگ ماسٹر کے اور مہمانوں کے خیمے میں داخل ہوتے ہی اندر کے سب ان کی طرف متوجہ ہوگئے۔
مگر نہیں، ’’ان کی طرف‘‘ زیادہ درست نہیں ہے، کیونکہ سب رنگ ماسٹر اور عورت ہی کو دیکھ رہے تھے۔ مرد تو جیسے ان کے ساتھ تھا ہی نہیں۔ گٹھے ہوئے بدن والے تین چار بونوں نے منھ میں انگلیاں ڈال کر تیز تیز سیٹیاں ماری تھیں اور ’’ہاہاہا‘‘ کی آواز نکالی تھی۔ رنگ ماسٹر خود کواس وقت سرکس کے رنگ میں اترا ہوا سمجھ رہا تھا۔ اس نےسیٹیوں کےجواب میں ایک قدم آگے بڑھ کر عورت کو خود سے بھڑا لیا، اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کے جھک جھک کر ہاتھ ہلاتے ہوئے کسی بات کی داد وصول کرنے لگا۔ ہجوم میں سے ایک نے چیخ کر کہا،’’ وا بھئی وا۔۔۔ ماشٹر فلک شیر نے ایمان سے یہ نمبر ون ماشوک گھیرا ہے!‘‘ رنگ ماسٹر نے خوش ہو کے ٹھٹھا لگایا اور داد وصول کرتے ہوئے پھر ہاتھ لہرایا۔
عورت کا مرد غصے سے بے قابو ہوگیا۔ اس نےبڑھ کر رنگ ماسٹر کی کلائی پکڑی اور جس ہاتھ سے وہ عورت کو گھیرے ہوئے تھا وہ ہاتھ جھٹکے سے کھینچ کر ہٹا دیا۔ ہجوم نےخوشی کا نعرہ مارا ،’’واہ!‘‘ وہ سب سمجھ رہے تھے اب رقیبوں کی لڑائی شروع ہوگئی۔ مگر انہیں مایوسی ہوئی۔عورت نے ہنستی ہوئی آنکھوں سے اپنے مرد کو دیکھا اور ہجوم سے چیخ کر کہا، ’’سنو رے سنو۔ رنگ ماسٹر میرا ’ماشوک‘ نہیں ہے۔ میرا ’ماشوک‘ یہ ہے۔‘‘ اس نے کمر میں ہاتھ ڈال کے اپنے آدمی کو ہجوم کے سامنے کر دیا۔ پھر ہنستی ہوئی آواز میں چیخ کر کہنے لگی، ’’ارے وہ رنگ ماسٹر تو میری ماں کا بھائی ہے۔ ماما ہے میرا۔‘‘ سمجھو اس میرے ’ماشوک‘ کا ممیا سسر ہے۔ کچھ سمجھے ممیا سسر کیا ہوتا ہے؟‘‘
ہجوم نے ایک آواز ہو کے کہا، ’’ہاں، سمجھ گئے۔‘‘
’’کیا ہوتا ہے؟‘‘عورت نے پھر ہنستے ہوئے پوچھا۔ دوتین آوازوں نے گا کر کہا، ’’ماشوک کا سسر ہوتا ہے۔‘‘ اور باقی سب تالی بجانے لگے۔ رنگ ماسٹر بے وجہ کھلا پڑتا تھا۔ وہ ہر سمت میں جھک جھک کر اور ٹھک ٹھک کر کے اپنی ایڑیاں بجا رہا تھا جیسے یہ پورا شو اسی کے لیے ہو رہا ہو۔ اسے بات بات پر داد وصول کرنے کا شوق تھا۔ وہ تینوں اور پکنک باسکٹ کسی میز تک ابھی پہنچے بھی نہ ہوں گے کہ تالیاں بجاتے سرکس والوں نےاپنی میزیں چھوڑ دیں اور انہیں گھیر لیا۔ مرد کاغصہ یا جھونجھل، جو بھی تھی، اب تک ختم ہوچکی تھی۔ سرکس والے کھلے دل کے لوگ لگتے تھے۔ ان کی باتوں سے عورت کی، یا کسی کی بھی، توہین نہیں ہوتی تھی۔ وہ تو اپنی خوش مزاجی اور امنگ میں نئےدن کا استقبال کر رہے تھے۔
رنگ ماسٹر نے میز سنبھالتے ہی سرکس والوں کو دھکے دیتے ہوئے کافی جگہ بنالی اور پکنک باسکٹ اپنی کرسی کے قریب فرش پر رکھ دی۔ اب اس نے کرتب دکھانے کے انداز میں باسکٹ سے ایک ایک چیز نکالنی شروع کی جو وہ اپنی مرضی سے کبھی عورت کے، کبھی مرد کے اور خود اپنے سامنے رکھتا گیا یا واپس باسکٹ کےحوالے کرتا گیا۔ ہرچیز دیکھ کر ہجوم داد دیتا یا تالی بجاتا تھا۔
باسکٹ سے وسکی کی بوتلیں، بیئر کے ٹن، لمبے ڈنٹھلوں والے شیشے کے گلاس، پنیر کے سر بند ڈبے، کانٹوں دار تار، ڈبے کھولنے والے کٹر، کاگ اڑانے والے گھومے ہوئے اوپنر، پیچ کش اور دھمکیاں، الٹی میٹم اور بڑھیا بسکٹوں کے ٹن، بٹر پیپر میں لپیٹی روسٹ کی ہوئی سالم مرغی، جھوٹی تسلیاں، دلاسےاور ڈینگیں، کافی پینے کے مگ، کانٹے، چھریاں، اسلحے، پلیٹیں، ٹشوپیپر، وھائٹ پیپر، آٹھ دس نارنگیاں، اتنے ہی سیب، مخمل کے خوب صورت جھولنے میں بند سخت سینکی ہوئی ڈبل روٹی، مکھن لگی روٹی، روٹی لگا مکھن، صرف روٹی اور صرف مکھن، کچھ اور روٹی، شہد کا جار اور وٹامن کی گولیوں کی شیشی۔۔۔ بے شمار چیزیں۔ سب نکلی آ رہی تھیں۔ لگتا تھا عمر و عیار کی زنبیل ہے جس سے نعمتیں اور عشرتیں اور دوسری سب چیزیں بس چلی آ رہی ہیں۔
رنگ ماسٹر نے گولیوں کی شیشی اٹھا کر ہاتھ بلند کرتے ہوئے، ہجوم کو ’’درجہ بہ درجہ‘‘ آنکھ ماری اور اپنی اعلانچیوں والی آواز میں عورت اور مرد کو مخاطب کر کے کہا، ’’اور بھائی صاحبو! یہ ہیں اصلی سلاجیت کی جوہری گولیاں، یہ شیرنی کے دودھ اور کنوارے ریچھ کی کمر سے حاصل کیے ہوئے ایک خاص جوہر میں گوندھ کے تیار کی گئی ٹیبلٹیں ہیں بھائی صاحبو! جو حکیم ارسطاطالیس اصلی کی ایجاد ہیں صاحبو اور موج میلے کی کارکردگی میں سمجھو کہ تیر بہ ہدف ہیں۔ اس لیے۔۔۔‘‘ اب وہ باقی ہجوم سے مخاطب تھا، ’’اسی لیے بھائی صاحبو! یہ گولیاں میں اس معزز جوڑے کو پیش کرتا ہوں۔ اور کیوں نہ پیش کروں کہ اس وقت پورے سرکس گراؤنڈ میں ان دونوں سے زیادہ اس کا حق دار اور کون ہوگا۔۔۔ بتاؤ کون ہوگا؟‘‘ ہجوم نے، جو اب ہر طرف سے انہیں گھیر چکا تھا، چیخ کر ایک آوازمیں کہا، ’’کوئی نہیں!‘‘
رنگ ماسٹر نےحکم دیا، ’’اچھا تو ان کے لیے ایک ایک گلاس سادہ پانی لاؤ۔‘‘ پانی آگیا۔ رنگ ماسٹر نےمرد اور عورت کو حکم دیا، ’’تو بھائی صاحبو! دو دو گولیاں سلاجیت اصلی ممسک قرص جوہری درجہ اول آپ دونوں کھا لو۔ فوراً۔۔۔ رام بھلی کرے گا۔‘‘عورت نےانکار کر دیا۔ مرد نے ہاتھ بڑھاکر شیشی اٹھالی۔ اس پر لکھا ہوا پڑھا۔ عام سی وٹامن بی کمپلیکس کی گولیاں تھیں۔ اس نے دو نکالیں اور پانی سے نگل لیں۔ رنگ ماسٹر سمیت ہجوم نے، ’’ہا آ۔۔۔ شیر کا بچہ ہے!‘‘ کہہ کر تالی بجائی۔ مرد اٹھا، تعظیم کو جھکا اور اس نے داد وصول کی۔ وہ بھی ان کے رنگ میں رنگتا جا رہا تھا۔
اسے دیکھ کر عورت بھی اٹھی۔ اس نےبھی دو ’’ممسک جوہری‘‘ گولیاں نکالیں، ہتھیلی پر رکھ کر پورے حلقے کو دکھائیں۔ حلقے سے پسندیدگی کی گونج سنائی دی۔
’’ہا آآآں!‘‘
عورت نے پہلے ایک، پھر دوسری گولی پانی سے نگلی اور وہ اپنےمرد کی طرح داد وصول کرنے کو جھکی، اپنی فراک کا گھیرا تھام کر، دونوں گھٹنے خم کر کے اس نے ہجوم کو تعظیم دی۔
’’ہا آ۔ شیر کی بچی ہے ماشوک! شیر کی بچی ہے۔‘‘ اور ہجوم نے تالیاں بجانی شروع کردیں۔ دو بونے میزوں کے بیچ خالی جگہ میں ایک دوسرے کے پنجوں میں پنجے پھنسا کر گھمن گھیری ناچنے لگے۔ رنگ ماسٹر اور مہمان عورت مرد نے بھی تال دینی شروع کر دی۔ جو ہجوم انھیں گھیرے ہوئے تھا وہ اب گھمن گھیری ناچتے بونوں کی طرف گھوم گیا اور بڑے جوش سے تال دے دے کر کچھ گانے لگا، اس لیے تینوں اس تال دیتے گاتے ہجوم میں شامل ہوگئے۔ان کی مرکزی حیثیت ختم ہوچکی تھی۔۔۔ اسپاٹ لائٹ سمجھو اب ان بونوں پر تھی۔
’’تری درادا۔ تری دادا۔ تاناتانا، تن تنانا۔ او تری درادا۔ تری دادا۔‘‘ نہ معلوم کیا گیت تھا۔ وہ جوڑا بھی سب کے ساتھ چیخ چیخ کر ’’تری درادا‘‘ کرنے لگا۔ کوئی پانچ سات منٹ یہ ناچ، تالیاں اور ’’تری دادا‘‘ چلتا رہا۔ پھر جس طرح اچانک بونوں نے ناچنا شروع کیا تھا، ایک دم ہی انہوں نے بند کر دیا۔ دونوں ہنستے اور ایک دوسرے کی پیٹھ تھپکتے ہوئے دائرہ توڑ کرایک طرف نکل گئے اور کرسیاں کھینچ کر بیٹھ گئے۔ ہجوم چھٹ گیا۔ سب اپنی میزوں پر چلے گئے۔ عورت اور مرد کو لیے ہوئے رنگ ماسٹر اپنی میز کی طرف بڑھا اور۔۔۔ ٹھٹک کر وہیں کھڑا رہ گیا۔
رنگ ماسٹر کی میز پر شیر کی کھال سے بنا کوسٹیوم پہنے، گل مچھوں والا ایک لمبا تڑنگا، چوڑا چکلا اور ادھ ننگا باڈی بلڈر بیٹھا پرشور طریقے سے رنگ ماسٹر کے سیب کھا رہا تھا۔۔۔ کھا نہیں رہا تھا چرا رہا تھا۔ باڈی بلڈر کےدونوں ہاتھوں میں ایک ایک سیب تھا اور وہ اپنے مضبوط سفید دانتوں سے کبھی ایک سیب کو، کبھی دوسرے کو پھنساتا اور سر کا جھٹکا دے کر جیسے اکھاڑتا تھا، پھر خچرکی طرح منھ چلاتے ہوئے چبانے لگتا تھا۔ سیبوں کے رس سے گل مچھوں سمیت اس کا نچلا آدھا چہرہ چمک رہا تھا اور پھل کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے اس کی ہتھوڑے جیسے ٹھوڑی اور بالوں بھرے سینے پر گر رہے تھے۔
’’سڑ لپ سڑلپ‘‘ کی آوازیں سن کے اب دوسرے بھی ادھر دیکھنےلگے تھے۔ رنگ ماسٹر کو سامنے پاکر بھرے منھ کے ساتھ باڈی بلڈر ’’ہو ہو ہو‘‘ کر کے ہنسا۔ مرد پریشان ہو کر کبھی اسے کبھی رنگ ماسٹر کو دیکھنے لگا۔ رنگ ماسٹر غصے میں کانپنے لگا تھا۔ باڈی بلڈر بھونڈی آواز میں ہنستے ہوئے بولا، ’’کیا سوچ را ہے؟ آ۔۔۔ مار مجھے۔۔۔! آ!‘‘ عورت اور مرد نے سوچا، ’’کیسی اچھی صبح طلو ع ہونے والی تھی۔ اب سب کچھ برباد ہو گیا ہے کیوں کہ ماحول میں غصہ ہے اور سب کے ساتھ کہیں کوئی دھاندلی کی جا رہی ہے۔‘‘ رنگ ماسٹر نے سر جھٹک کر پیشانی پر ہاتھ پھیرا۔۔۔ بالکل اس طرح جیسے کوئی نیند کے جھونکے سے پیچھا چھڑانا چاہ رہا ہو۔ باڈی بلڈر نے ہنستے ہوئے اسے پھر للکارا، ’’آ۔۔۔ مار!‘‘ رنگ ماسٹر عورت کی طرف گھوم گیا۔ دھیرے سے بولا، ’’تم دونوں ایک منٹ کے لیے ذرا باہر جاؤ۔‘‘ خیمے میں سناٹا ہوگیا۔
عورت نےرنگ ماسٹر کے شانے پر ہاتھ رکھا تو وہ ایک بار ایسے تھرایا جیسے بجلی کا زندہ تار اسے چھو گیا ہو۔ وہ پہلے کی طرح دھیرے سے کہنے لگا، ’’نہیں بی بی! مجھے چھونا مت۔۔۔ اب ہاتھ نہیں لگانا۔ بالکل نہیں۔‘‘ عورت کو اندازہ نہیں تھا۔ اس نے، ’’اب ایسا بھی کیا‘‘ کہہ کے رنگ ماسٹر کی پیٹھ تھپکنا چاہی تھی کہ وہ منھ اٹھاکے پوری طاقت سے چیخا، ’’ہا آآآآہ!‘‘ پھر اس نے جھپٹ کر قریب پڑی کرسی اٹھائی اور باڈی بلڈر کے سر پر چلا دی۔ مرد نے دل میں سوچا، ’’یہ گیا شیر کی کھال والا گل مچھڑ۔۔۔ اب نہیں بچتا۔‘‘ مگر باڈی بلڈر نے بیٹھے ہی بیٹھے ہاتھ اٹھایا اور بازو کے پر گوشت حصے پر یہ وار روک لیا۔ کرسی ٹوٹ کے گر گئی۔ مرد نےاپنی عورت کو بانہہ سے پکڑا اور کھینچتا ہوا اسے خیمے سے باہر لے گیا۔
جاتے ہوئے اس نے سنا اندر سے ایسی آوازیں آئی تھیں جیسے سانڈ پھنکارتے ہوئے ایک دوسرے پر جھپٹ رہے ہوں۔ خیمے میں بھرے ہوئے لوگوں نے ’’نانانا‘ کہتے ہوئے کسی کو باز رکھنے کے لیے ایک ساتھ شور مچانا شروع کر دیا تھا۔ وہ دونوں خیمے سے نکل کر دو قدم ہی چلے ہوں گے کہ اندر ’’پھٹ‘‘ کی سی آواز ہوئی۔ لگتا تھا چھوٹے بور کا فائر آم چلایا گیا ہے۔ کسی کے دھم سے گرنے کی بھی آواز آئی تھی۔
مرد واپس اندر جھپٹا۔ عورت اس کے پیچھے تھی۔ رنگ ماسٹر اپنی میز کے قریب ہاتھ میں پیتل کا چھوٹا سا جیبی پستول کے لیے کھڑا تھا۔ پستول کی نال سے ابھی تک دھواں نکل رہا تھا اور باڈی بلڈر کی کرسی الٹی پڑی تھی۔ برابر سے ایک بونا، مار دیا رے مار دیا، آسو بلے کو مار دیا، چلاتا ہوا باہر بھاگا۔ کوئی اور اسےروکتا ہوا پیچھے چلا تھا مگر بونا بہت تیز دوڑ رہا تھا۔
عورت مرد نے فرش پر گرے ہوئے باڈی بلڈر کو دیکھا۔ وہ ٹوٹی کرسیوں کے ملبے میں پڑا اپنا دایاں شانہ سختی سے دبا ئے اٹھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس کی انگلیاں خون میں بھیگی جا رہی تھیں۔ آسو بلا (بونے نےاس کا یہی نام لیا تھا) مرا نہیں تھا۔ وہ اٹھ کر بیٹھنے میں کامیاب ہوگیا تھا اور اب تک منہ چلا رہا تھا۔ ’’ہوہو‘‘ کر کے ہنستے ہوئے اس نے منہ میں بھرے سیب کے ٹکڑے اور لگدی فرش پر گرا دی اور بولا، ’’پشتول چلاتا ہے۔۔۔ حرامی!‘‘ رنگ ماسٹر نے اسے مارنے کو ایک اور کرسی اٹھالی ۔۔۔ اس کے دیسی پستول سے شاید ایک ہی فائر ہو سکتا تھا۔
مرد رنگ ماسٹر کو حملے سے روکنے کے لیے بڑھ رہا تھا کہ خیمے کے لوگوں اور بونوں نے چیخ کر کہا، ’’نہیں بھائی۔ قریب مت جانا۔ بالکل مت جانا۔‘‘ مرد سوچنے لگا، ’’ارے! رنگ ماسٹر نے زخمی آسو کو مارنے کے لیے کرسی اٹھائی ہے۔ یہ کیسے لوگ ہیں، مجھے آگے آنے سے روک رہے ہیں۔ مگر اس نے کنکھیوں سے دیکھا کہ وہ سب کے سب ایک جتھے کی صورت میں رنگ ماسٹر کو گھیرتے جا رہےتھے۔ ہر ایک نےایک ایک کرسی اٹھا رکھی تھی۔ ہر کرسی کی ٹانگیں کسی چار انگلیوں والے پنجے کی طرح رنگ ماسٹر کی طرف اٹھی ہوئی تھیں۔ وہ گھیرا ڈال چکے تب ماسٹر کو اندازہ ہوا کہ وہ گھر گیا ہے۔ اس نے دیکھا اور حملے کے لیے اٹھائی ہوئی اپنی کرسی فرش پررکھ دی اور اسی پر بیٹھ گیا۔ پھر سر جھکا کر اپنے جوتوں کے درمیان فرش کو گھورنے لگا۔ اب وہ ایک پرسکون اور فکرمند آدمی تھا۔
عورت مرد نے سر کسوں میں کٹیلے جانوروں کو کرسی کے بڑھتے ہوئے پنجوں سے قابو میں آتے دیکھا تھا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ ان کے سامنے ایک انسان ۔۔۔ خود کٹیلوں کا تماشا دکھانے والا رنگ ماسٹر۔۔۔ کرسی سے قابو میں آ گیا تھا۔ ایک بار پھر خیمے میں سناٹا ہو گیا۔ ایک چھوٹی سی آواز نے، کسی بچے کی آواز نے اچانک سوال کیا، ’’یہاں کیا ہو رہا ہے؟‘‘ عورت مرد گھوم گئے۔ خیمے کے دروازے میں ایک لڑکی آکھڑی ہوئی تھی۔۔۔ آٹھ نو برس کی بچی۔ اس نے اپنی چھوٹی سی تجسس بھری آواز میں پھر پوچھا، ’’جانم! کیا ہوا تھا ابھی؟‘‘ اس نے یہ سوال رنگ ماسٹر سے کیا تھا۔
’’کچھ نہیں، ڈارلنگ!۔۔۔ تم کیوں آگئیں؟ جاؤ۔۔۔ سوجاؤ۔‘‘ رنگ ماسٹر نے جس طرح کہا تھا اس سے انہیں شک ساہوا۔ دونوں نے پھر دیکھا۔ اب کے غور سےدیکھا۔ وہ بچی نہیں، عورت تھی، پوری عورت۔۔۔ وہ بونی تھی۔ بونی نے پوچھا، ’’جانم! یہ ایسا کیوں بیٹھا ہے؟‘‘ وہ آسو بلے کی طرف اشارہ کر رہی تھی، ’’کیا ہوگیا اس کو؟ کیسےچوٹ لگ گئی؟‘‘ عورت نے سوچا، ’’جھوٹ بول رہی ہے۔ یہ خوب جانتی ہے کیا ہوا ہے۔‘‘ بونی کو خبر کرنے والا بونا اس کے پیچھے خیمے میں آ گیا تھا۔
’’کیا ہوا اسے؟‘‘ اس نے پھر پوچھا۔
’’کیا خبر۔‘‘ رنگ ماسٹر نے پھر سر جھکا کر فرش کو گھورنا شروع کر دیا تھا۔ آسو بلا کبھی بونی کو کبھی رنگ ماسٹر کو گھما گھما کے دیکھتا رہا تھا۔ اب جو رنگ ماسٹر نے ’’کیا خبر‘‘ کہہ کے سر جھکا لیا تو آسو فرش پر سےاچانک اٹھ کھڑا ہوا اور شکایت کے لہجے میں بولا، ’’بیلا جی! بیلاجی! اس نے پشتول مارا ہے۔۔۔ حرامی نے۔‘‘
خوب! تو رنگ ماسٹر کی رکھیل بیلا جی یہ ہے۔۔۔ بونی۔
آسو کی بھدی آواز میں ماسٹر کے لیے گالی سن کر بیلا جی کی تیوریاں چڑھ گئی تھیں۔ بلے کی طرف دیکھے بغیر اس نے منہ بگاڑ کر کہا، ’’بک بک نہیں کر!‘‘ اور خاموش بیٹھے ہجوم میں سے ایک کو انگلی کے اشارے سے بلایا، ’’اوسن، ادھر آ ۔۔۔ ہاں تجھی سے کہہ رہی ہوں۔ لے جا اس سالے کو۔۔۔ کمپوڈر اٹھ گیا ہوگا۔۔۔ اس کی پٹی کرا دینا۔‘‘ ہجوم سےجو نکل کے آیا وہ بھی بونا تھا۔ وہ بھنبھناتے ہوئے شکایت آمیز لہجے میں بولا، ’’ابھی کدھر اٹھا ہووے گا کمپوڈر۔ رات پوری باٹلی ٹکا کے گیا تھا۔‘‘
’’جاجا، سالا بالشٹر! ادھر ہی جرح کرنے لگا ہےحرام کا! ابے جاتا ہے یا پچھالے پہ ٹھڈا کھائےگا۔ گاں۔۔۔!‘‘
رنگ ماسٹر ٹھیک کہتا تھا، بیلا جی کچی نیند سےاٹھادی گئی تھی۔۔۔ اب یہ دن بھر گندی گندی گالیاں بکے گی۔ گالی کھا کے بونا زخمی آسو کے پاس گیا اور ہاتھ پکڑ کر اسے خیمے سے باہر لے چلا۔ لگتا تھا کریکٹ کے بیٹ کو اس کی بال کھینچے لیے جا رہی ہے۔ جوں ہی آسو اور بونا خیمے سےنکلے، بونی بیلا جی حلق سے لاڈ کی آوازیں نکالتی، رنگ ماسٹر کے جوتوں پر پیر رکھتی، اچھل کر اس کی گود میں جا بیٹھی، ’’اررے میرا فلک شیر! پھلکو میرا۔۔۔ کیا بات ہوگئی ڈار لنگ۔۔۔؟ تجھے کیوں غصہ آ گیا؟ آں؟ میری جان! پستول کائی کو چلایا تونے اس ۔۔۔اس پونے پہ کائی کو چلایا پستول؟‘‘
بونی رنگ ماسٹر کے بڑھے ہوئے شیو پر اپنے رخسار رگڑنے لگی اور پچ پچ کی آوازیں نکالتی ہوئی کچھ یوں ظاہر کرنے لگی جیسے وہ اس کے بوسے لے رہی ہے، یا لینا چاہتی ہے مگرحاضرین کی وجہ سے جھجکتی ہے۔ رنگ ماسٹر اس کی پہنچ سے دور ہونےکو اپنا چہرہ دائیں بائیں ہٹا کر اسے روکتا رہا، ’’نا ڈارلنگ! نا بیلا! اری بات تو سن۔‘‘ مگر بیلا جی کا لاڈ اور نقلی چوما چاٹی چلتی رہی اور بار بار وہی سوال کہ کیا بات ہوگئی؟ کیوں غصہ آگیا؟ پستول کائی کو چلایا؟ رنگ ماسٹر نے بیلاجی کی غیر معمولی توجہ سے بچنے کو شاید ایک بار منھ کھول کر بتا دینا چاہا بھی مگر پھر ’’ہاں، وہ، یہ‘‘ کہہ کر چپ ہو گیا۔
’’بتانا، کیا بات ہوگئی جانم؟‘‘ بیلا جی اب اپنے پھلکو فلک شیر کی گود میں کھڑی ہوگئی، اس کے کھلے گریبان میں دور تک اپنا انگوٹھیوں بھرا ہاتھ ڈال دیا اور اندر ہی اندر رنگ ماسٹر کا ادھیڑ سینہ تھپتھپانے لگی۔ اسے گدگدی ہو رہی تھی یا کوئی اور بات ہوگی جو وہ سرخ ہو گیا اور گھگھیانے لگا، ’’بس کر۔ ذرا ٹھیر تو۔ اری دیکھ تو سب ہیں۔۔۔ بھلا یہ کون سا وقت ہے؟ بیلا! او بیلا جی! نہیں سنے گی؟‘‘
بونی بیلا جی مم مم مم کرتی ہوئی جیسے خود بھی اپنی مصروفیت میں مگن ہو رہی تھی کہ فلک شیر دلاور نے ہتھیار ڈال دیے اور منھ سے رال گراتے ہوئے بولا، ’’سن بتاتا ہوں۔۔۔ بتاتا ہوں۔ اس نے۔۔۔ اس نے سالے نے میرے سیب کھا لیے تھے۔۔۔ اس لیے، اس لیے گولی ماری ہے۔ چل ہاتھ نکال۔۔۔ اتر!‘‘ بیلا جی بہت فتح مند اور مسرور اپنےفلک شیر ڈار لنگ کی گود سے اتر آئی۔ اس نے خیمے میں موجود لوگوں اور بونوں کی طرف جیتی ہوئی عورت کے غرور سے دیکھا اور حکم دیا، ’’پھلکو کی باسکٹ میں اس کی سب چیزیں واپس رکھ دو۔‘‘
خیمے میں موجود لوگ، حد یہ ہے کہ بونے تک بے تعلقی اور بیزاری بلکہ ایک دھیمی نفرت سے یہ سب کچھ دیکھتے رہے تھے۔ ان میں سے کسی نے بیلا جی کی بات پرتوجہ نہ دی۔ عورت مرد دیکھ رہے تھے کہ بعض بونوں تک نےجماہیاں لی تھیں۔
’’تمہاری بھیں کا یہ، کا وہ ۔۔۔ سنا نہیں، میں نے کیا کہا ہے؟‘‘ بونی نے منھ بگاڑ بگاڑ کے گالی گفتار بکنی شروع کردی تھی۔ عورت نے حیرت سے اپنے مرد کو دیکھا۔ دھیرے سے بولی، ’’اس چھوٹی ڈبیا سی عورت میں کتنا گند بھرا ہے!‘‘ مرد کچھ نہ بولا۔ اسے بھوک لگنی شروع ہوگئی تھی۔۔۔ صبح تڑکے سے بلکہ آخری پہر کے اندھیرے سے اب تک انہوں نے بڑی دیوانگی کے ساتھ وقت گزارا تھا۔ رات جاگتے ہوئے کٹی تھی۔ بھوک تو لگنا ہی تھی۔ بیلا جی کی گالی گفتار سن کے سبھی بونے جلدی جلدی رنگ ماسٹر کا سامان اس کی باسکٹ میں بھرنے لگے تھے۔
بونی نےاب عورت مرد کی طرف توجہ کی۔ ایسا لگتا تھا دونوں پر اس کی نظر پہلے نہ پڑی ہو گی۔ اس نے ایک بار مرد کو دیکھا، منہ بنایا، پھر عورت کو دیکھا تو اس کی آنکھیں چمکنےلگیں۔ جھک کر اس نے رنگ ماسٹر کے کان میں کچھ کہا۔ اس نےبہت سختی سے انکار میں سر ہلایا، دبی ہوئی آواز میں بولا، ’’تو پاگل ہوگئی ہے! اری وہ میاں بیوی ہیں۔‘‘ بیلا جی رنگ ماسٹر کی کرسی کے پیچھے کھڑی تھی، اب وہ اس کے برابر آ گئی۔ وہ جھکی ہوئی برابر اس کے کچھ کہے جا رہی تھی۔
رنگ ماسٹر ایک دم کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ بیلا جی گرتے گرتے بچی، کھسیا گئی، مگر اس نے ڈپٹ کر بہت غصے سے مرد کو دیکھا اور بولی، ’’اورے او۔۔۔ کیا دیکھتا ہے؟ کون ہے تو؟ کدھر سے آیا ہے۔۔۔ سالا پرورٹ!‘‘ وہ نہ معلوم کیوں اسے یہ عجیب طعنہ دے رہی تھی۔ مرد کے جواب دینے سے پہلے رنگ ماسٹر بول اٹھا، ’’مہمان ہیں میرے۔۔۔ ان سے کیا پوچھ رہی ہے؟ بتایا نا، میرےساتھ آئے ہیں دونوں۔‘‘ بونی نے فلک شیر کی کہی بات ان سنی کر دی، اسی گندے لہجے میں مرد سے پوچھنے لگی، ’’او رے او۔۔۔ یہ رنڈی کون ہے تیری۔۔۔؟ ماں ہے؟‘‘
اب مرد کے کچھ کہنے سے پہلے اس کی عورت آواز بنا کے ہنسی، بولی، ’’اری او پاگل! کیسی بھلکڑ ہے۔۔۔ کیا پھر بھول گئی؟ اری اس کی نہیں میں تیری میا ہوں۔ نایکہ ہوں ادھر کی۔۔۔ آٹھ آٹھ آنے لے کے میں ہی تو چھوڑتی جاتی ہوں۔۔۔ پورے کا آٹھ آنہ، بونے کا چار آنہ، پونے کا ایک آنہ۔۔۔ یاد آیا؟‘‘
رنگ ماسٹر کا منھ تھتھا ہوا تھا لیکن عورت کی بات سن کے اس نے چہرہ اٹھا کے ایک زبردست قہقہہ لگایا، پھرپیٹ پکڑ کے ہنسنے لگا اور ہنستے ہنستے بولا، ’’آج ملی ہے یہ تیرے سر کی استاد ۔۔۔ شاباشے۔۔۔ ہاہاہا۔۔۔ یہ ملی ہے۔‘‘
بیلا جی کرسی کے پیچھے سے غصہ ور نیولے کی طرح خی خی کی آواز نکالتی ہوئی جھپٹی اور اس نے بہ یک وقت عورت کی طرف کک چلایا اور مرد کے پیٹ میں گھونسا مارا۔ عورت اس کے لیے تیار تھی۔ اس نے اپنی طرف آتے کک کو ہاتھ بڑھا کر ذرا اوپر اٹھا دیا۔ بونی کا توازن بگڑ گیا اور وہ گر گئی۔ مرد کی طرف چلایا ہوا اس کا گھونسا اوچھا پڑا۔۔۔ ذرا سا نیچے۔ مارے تکلیف کے وہ دہرا ہو گیا۔ بیلاجی بونی فرش پر پڑی ہوئی اسے ۔۔۔ مرد کو، خدا معلوم مرد ہی کو کیوں۔۔۔ طرح طرح کی گالیاں دے رہی تھی، ’’تیری ماں کو بھیں کے یاں کاواں۔۔۔ حرامی سالا نامردا، گینگلوکی اولاد، سور دلا کدھر کا۔۔۔‘‘
رنگ ماسٹر فلک شیر نے ہنسی سے بے حال ہوتے ہوئے بھی جھک کر فرش پر پیچ و تاب کھاتی بونی کو اس کی کمر کے گرد بازو ڈال کر چھوٹے مچلتے ہوئے بنڈل کی طرح اٹھایا اور بغل میں مار خیمے سےنکل گیا۔ وہ بری طرح ہاتھ پیر چلا رہی تھی۔ تین بونوں نے رنگ ماسٹر کی پکنک باسکٹ اٹھائی اور مشقت کی آوازیں نکالتے وہ بھی پیچھے چل پڑے۔ دور سے بیلا جی کی چیختی چنچناتی آواز آرہی تھی، ’’ان دونوں سالوں کی بھیں کا یہ، کا وہ، دلا سالا فش ٹولا۔۔۔ اور وہ سالی رانڈ۔۔۔‘‘ عورت نے تھکی ہوئی بیزار خوش مزاجی سے ہاتھ جھاڑ کر کہا، ’’گئی سسری۔۔۔ جان چھوٹی۔‘‘
’’مگر وہ تو کھانے کی سب چیزیں لے گئے ہیں۔ اب کیا ہوگا۔‘‘ عورت نے لاعلمی میں کندھے اچکائے۔ پیچھے سے کسی نےدھیمی گمبھیر آواز میں کہا، ’’میرے ساتھ آؤ، ناشتا کرا دوں گا۔‘‘عورت مرد نے مڑ کے دیکھا۔ نیلا اوور آل پہنے، ٹول بکس اٹھائے ایک سنجیدہ چہرے والا عرب، ایرانی یا شاید پاکستانی جیب میں ہاتھ ڈالے سکون سے کھڑا تھا اور انہیں ساتھ آنے کو کہتا تھا۔ اس نےمصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا، ’’میرا نام بادل ہے۔ ادھر الیکٹریشین لگا ہوا ہوں۔‘‘ مرد نے ہاتھ ملاتے ہوئے محسوس کیا کہ اس کے ہاتھ کے لمس میں محنتی آدمی کا کھردرا پن اور بے غرضی تھی۔
’’تم پاکستانی ہو؟‘‘مرد نے بادل سے پوچھا۔
’’پتا نہیں۔۔۔ میں اور والد صاحب مسقط میں پیدا ہوئے تھے۔۔۔ دادا صاحب بلوچستان سے گیا تھا۔‘‘ بادل انہیں لیے ہوئے میزوں کے درمیان راستہ بناتا خیمے کے پچھلے حصے کی طرف چلا۔
میزوں کے گرد بیٹھے ہوئے لوگ اب اپنے مگوں، گلاسوں اور پیالوں میں جھکے ہوئے چائے، کافی جیسا کچھ پینے لگے تھے۔ عورت مرد نےدیکھا ان کے مگ اور گلاس جھڑی ہوئی تام چینی اور پتلے المونیم کے تھے۔ پیالیاں، کوریں، کونڈے، جھڑی اور بے جوڑ تھیں۔ تام چینی کی کالونچ لگی رکابیوں اور اردو کے پرانے پیلے پڑے اخباروں پر بھورے بدرنگ آٹے کی گیندیں سی رکھی تھیں اور بہت سے پکے زرد کھیرے، چیرا دیے ہوئے اور نمک مرچ لگے، کھری میز پر پڑے لڑھک رہے تھے۔ کوئی کوئی ورکر بے دلی سے آٹے کی ان بھوری گیندوں کو اٹھا اٹھا کے کتر لیتا تھا۔۔۔ کھیروں کو تو ان کے دیکھتے کسی نےچھوا بھی نہیں۔
وہ دونوں اور بادل بڑے روشن خیمے کو چھوڑ کر باورچیوں کی چھولداری میں آگئے۔ یہاں چینیوں جیسی مہربان صورتوں کے آدمی عارضی چولہوں پر کچھ پکاتے تھے یا گرم کر رہے تھے۔ وہ کچھ بولے تو معلوم ہوا، شکلیں بے شک چینیوں جیسی ہیں مگر وہ چینی نہیں ہیں۔ بادل نےدھیرج سے سمجھاتے ہوئے ان سے کچھ کہا تھا۔ وہ لوگ اس مرد اور اس عورت کے بارے میں بات کر رہے ہوں گے کیوں کہ ان میں سے کوئی بھی عورت مرد سے آنکھ نہیں ملا رہا تھا۔ کچھ بحثا بحثی کے بعد چینی دکھائی دینے والوں میں سے ایک نےہاں میں سرہلایا اور اپنے ایک ساتھی کو اشارہ کیا۔ وہ کہیں سے تین فولڈنگ کرسیاں اٹھا لایا جو اس نے ایک صندوق کے پاس بچھا دیں۔ صندق ایک طرح کی میز بن گیا۔
بادل اور عورت مرد بیٹھ چکے تو باورچیوں میں سے ایک بڑے خیمے کی طرف کھلنے والے دروازے میں اسٹول ڈال کے، رستہ روک کے بیٹھ گیا۔اسے ڈر ہوگا کہ کہیں ادھر سے کوئی اور نہ آجائے۔ دوسرے باورچی ان کے لیے ناشتا تیار کرنے لگے۔ بادل نے بتایا، ’’دیگوں والی چائے بے کار ہے۔ یہ نئی چائے بنا کے دیں گے۔‘‘ مرد نے دھیرے سے کہا، ’’مہربانی ہے تمہاری۔‘‘ وہ بولا، ’’مگر ادھر ہمارا کوئی عمل دخل نہیں ہے دوست۔ یہ لانگری لوگ ویسا ہی طبیعت کا اچھا ہے۔‘‘ باورچیوں نے آلو ابالنےکو چڑھا دیے۔
بادل آہستہ آہستہ باتیں کرتا ہوا اس ناکافی ناشتےکی پیشگی معذرت کرنے لگا جو ابھی ان دونوں کے سامنے لایا بھی نہیں گیا تھا۔ مگر مرد نے کہا کہ بھائی محبت سے جو بھی مل جائے گا نعمتوں سے بڑھ کے ہوگا۔ بادل بولا، ’’دوست ادھر بڑا کڑکی ہے۔‘‘ بتانے لگا کہ ویسے تو سرکس چل ہی نہیں رہا اور جو تھوڑا بہت آتا ہے تو وہی تینوں ’’مردار‘‘ آپس میں بانٹ لیتے ہیں۔ ورکروں کو وعدے وعید کے سوا دیتے ہی کچھ نہیں۔ بے زبان جانوروں کو بھوکا مار رکھا ہے۔۔۔ سب کو بس آدھے پیٹ ملتا ہے۔ مرد نےسوچا، تینوں سے وہی تینوں مراد ہوں گے، رنگ ماسٹر، باڈی بلڈر اور بیلا بونی۔ اخباروں پر پڑی آٹے کی گیندیں اور پکے پیلے کھیرے دیکھ کر اسے پہلے ہی حیرت ہوئی تھی۔ یہ وہ ناشتا تھا جسے رنگ ماسٹر ’’طاقت سے بھرپور ایک دم بم فولادی ناشتا‘‘ بتا رہا تھا!
اس نے پوچھا، ’’جب کچھ ملتا ہی نہیں ہے تو تم سب لوگ سرکس کا پیچھا کیوں نہیں چھوڑ دیتے؟‘‘ بادل بولا، ’’ کدھر جاوے؟ سب لوگ کا شناختی پرچی سرکس کے ساتھ ہے۔ ویسے بھی باہر کے حساب سے دم، لیاقت کوئی نہیں ہے۔ نہیں کام ملے گا، نہیں کوئی کدھری گھسنے دیں گا۔‘‘ مرد کو بونی اور رنگ ماسٹر کی سنگت یاد آئی۔ اس نے ویسے ہی، کچھ نہ کچھ کہنے کو، کہہ دیا کہ وہ دو ایک طرف ہیں اور باڈی بلڈر ایک طرف، میرے تو خیال میں وہ کچھ دبا ہوا ہے اورخطرے میں ہے۔ رنگ ماسٹر کے پستول سے ابھی مرتے مرتے بچا ہے۔ تم اس کا ساتھ کیوں نہیں دیتے۔ تمہارا بھی فائدہ ہے۔
بادل یہ سب سن کے ہنسا، کہنے لگا، ’’آسو بلا بھی ایک حرامی ہے۔ انہی کا آدمی ہے۔ آپ کیا سمجھتے ہو؟ وہ جو آسو کو دھتکارتی تھی، وہ کیا تھا۔۔۔؟ بھئی سب ناٹک تھا۔ اصل پوچھو تو وہ آسو ہی کا عورت ہے۔ رنگ ماسٹر کو تو بس ابھی پھنسا رکھا ہے۔ یا پھر سمجھو کسی کی بھی نہیں ہے۔ ابھی تھوڑی دیر کو فلک شیر کے خیمے میں گئی ہے۔ ادھر سے اپنی تسلی کراکے بلے کے ٹینٹ میں جاکے پڑجائے گی۔ چوما چاٹی کر کے اس مردار کو منائے گی۔ کمپوڈر کو ٹھڈے مار مار کے بلے کے بازو پر ایک دم نئی بینڈیج لگوائے گی۔ بھلے ہی اسے بخار ہووے نہیں ہووے، سرپے ٹھنڈے پانی کی پٹی رکھے گی۔ پھر شام تک ادھری پڑی سوتی رہےگی۔‘‘
مرد نے کہا، ’’خوب!‘‘
’’شام کے بعد شو چلے گا۔ شو کے پیچھے وہ فلک شیر کے خیمے میں جا سوئے گی۔ سب کو پتا ہے۔ آسو کے گولی پڑنے کی خبر لے کے بونا بھاگا بھاگا ادھر ہی گیا تھا۔‘‘
’’عجیب بات ہے!‘‘
بادل بولا، ’’بس ایسا ہی انتظام ہے۔‘‘
’’انتظام‘‘ کا لفظ کہتے ہوئے اس نے کراہت ظاہر کی تھی۔
’’یہ بتاؤ، اب جو گولی چلی ہے اور بلا زخمی ہوگیا ہے تو رنگ ماسٹر کے اور اس کے بیچ دشمنی نہیں ہوگئی؟‘‘
’’ہاں برابر ہوگئی۔ مگر یہ سب وقتی دشمنی ہے۔‘‘
مرد نے دھیرے سے کہا، ’’عورت پہ ان کی دشمنی نہیں ہوتی۔۔۔ سیبوں پہ ہوگئی؟‘‘
’’عورت؟ کیسا عورت۔۔۔؟ وہ عورت مورت نہیں ہے۔ پاٹنر ہے بھئی، ہم نے بولا ہے نہیں۔ سب چیز میں وہ بھی حصہ بٹاتی ہے۔ پھر یہ بھی ہے ان لوگ کا دوستی دشمنی سب ٹائم ٹائم سے ہوتا ہے۔ مرتا کوئی نہیں۔ بھاگتا کوئی نہیں۔ ہر بار سیزن کے شو ختم ہونے پہ یہ لوگ یار دوست بن جاتا ہے، حصہ بخرا کرتا ہے۔ ہم لوگ کو تسلی دیتا ہے، بولتا ہے انتظار کرو، بونی اپنی کہتی ہے۔ باڈی بلڈر اپنی کہتا ہے۔ وہ بولتا ہے میں رنگ ماسٹر کی کمر توڑ دوں گا، بس دیکھتے رہو۔ فلک شیر کہتا ہے، آسو بلے کو زندہ نہیں رہنے دینا ہے۔ دوست! ابھی یہ بھی ہوسکتا ہے بلے کے ٹینٹ میں اس وقت وہ خود بھی بیٹھا ہووے۔ تین گلاس سامنے رکھے، بوتل کھولے لگا پڑا ہو یا پھر کھڑے ہو ہو کے ٹھک ٹھک ایڑی بجا بجا کے بلے کا اور بونی کا گلاس بھرتا ہووے یا آنکھ مارمار کے ٹھٹھے لگاتا ہووے۔۔۔ ان لوگ کا ہمیشہ سے ایسا ہی ہے۔‘‘
مرد اور کیا کہتا، اس نے کہا، ’’ان کو مار کے نکالو۔ سرکس تو تمہی لوگ چلاتے ہو۔ بس، چلاتے رہو۔‘‘
بادل بلوچی نے کوئی جواب نہ دیا۔ اسے اپنی سنجیدہ آنکھوں سے دیکھنے لگا۔ جنریٹروں کی آوازیں آنی بند ہوگئی تھیں۔ لگتا تھا باہر دن نکل آیا ہے۔ مگر یہ کون بتاتا کہ نکلا بھی ہے کہ نہیں۔۔۔ سبھی تو اندر تھے۔