بھول جاؤ گے کہ رہتے تھے یہاں دوسرے لوگ
بھول جاؤ گے کہ رہتے تھے یہاں دوسرے لوگ
کل پھر آباد کریں گے یہ مغاں دوسرے لوگ
دف بجاتی ہوئی صحراؤں سے آئے گی ہوا
اور پھر ہوں گے یہاں رقص کناں دوسرے لوگ
جل بھنجیں گے کہ ہم اس رات کے ایندھن ہی تو ہیں
خیر دیکھیں گے نئی روشنیاں دوسرے لوگ
ہم نے یہ کار جنوں کر تو دیا ہے آغاز
توڑ ڈالیں گے یہ زنجیر گراں دوسرے لوگ
یہ بھی گم کردہ زمانوں کی زباں بولتے ہیں
اپنے ہی لوگ ہیں اے ہم سفراں دوسرے لوگ
تیر چلتے رہیں گے ہاتھ بدلتے رہیں گے
گردنیں ہم تو اٹھا لیں گے نشاں دوسرے لوگ