Irfan Siddiqi

عرفان صدیقی

اہم ترین جدید شاعروں میں شامل، اپنے نوکلاسیکی لہجے کے لیے معروف

One of the most-prominent modern poets, famous for his neo-classical poetry.

عرفان صدیقی کی غزل

    دونوں اپنے کام کے ماہر دونوں بڑے ذہین

    دونوں اپنے کام کے ماہر دونوں بڑے ذہین سانپ ہمیشہ پھن لہرائے اور سپیرا بین گرگ وہاں کوئی سر نہیں کرتا آہو پر بندوق اس بستی کو جنگل کہنا جنگل کی توہین سوختگاں کی بزم سخن میں صدر نشیں آسیب چیخوں کے صد غزلوں پر سناٹوں کی تحسین فتنۂ شب نے ختم کیا سب آنکھوں کا آزار سارے خواب حقیقت ...

    مزید پڑھیے

    شہاب چہرہ کوئی گم شدہ ستارہ کوئی

    شہاب چہرہ کوئی گم شدہ ستارہ کوئی ہوا طلوع افق پر مرے دوبارہ کوئی امید واروں پہ کھلتا نہیں وہ باب وصال اور اس کے شہر سے کرتا نہیں کنارہ کوئی مگر گرفت میں آتا نہیں بدن اس کا خیال ڈھونڈھتا رہتا ہے استعارہ کوئی کہاں سے آتے ہیں یہ گھر اجالتے ہوئے لفظ چھپا ہے کیا مری مٹی میں ماہ ...

    مزید پڑھیے

    اس نے بیکار یہ بہروپ بنایا ہوا ہے

    اس نے بیکار یہ بہروپ بنایا ہوا ہے ہم نے جادو کا اک آئینہ لگایا ہوا ہے دو جگہ رہتے ہیں ہم ایک تو یہ شہر ملال ایک وہ شہر جو خوابوں میں بسایا ہوا ہے رات اور اتنی مسلسل کسی دیوانے نے صبح روکی ہوئی ہے چاند چرایا ہوا ہے عشق سے بھی کسی دن معرکہ فیصل ہو جائے اس نے مدت سے بہت حشر بپایا ...

    مزید پڑھیے

    مروتوں پہ وفا کا گماں بھی رکھتا تھا

    مروتوں پہ وفا کا گماں بھی رکھتا تھا وہ آدمی تھا غلط فہمیاں بھی رکھتا تھا بہت دنوں میں یہ بادل ادھر سے گزرا ہے مرا مکان کبھی سائباں بھی رکھتا تھا عجیب شخص تھا بچتا بھی تھا حوادث سے پھر اپنے جسم پہ الزام جاں بھی رکھتا تھا ڈبو دیا ہے تو اب اس کا کیا گلہ کیجے یہی بہاؤ سفینے رواں ...

    مزید پڑھیے

    بدن میں جیسے لہو تازیانہ ہو گیا ہے

    بدن میں جیسے لہو تازیانہ ہو گیا ہے اسے گلے سے لگائے زمانہ ہو گیا ہے چمک رہا ہے افق تک غبار تیرہ شبی کوئی چراغ سفر پر روانہ ہو گیا ہے ہمیں تو خیر بکھرنا ہی تھا کبھی نہ کبھی ہوائے تازہ کا جھونکا بہانہ ہو گیا ہے غرض کہ پوچھتے کیا ہو مآل سوختگاں تمام جلنا جلانا فسانہ ہو گیا ...

    مزید پڑھیے

    بھول جاؤ گے کہ رہتے تھے یہاں دوسرے لوگ

    بھول جاؤ گے کہ رہتے تھے یہاں دوسرے لوگ کل پھر آباد کریں گے یہ مغاں دوسرے لوگ دف بجاتی ہوئی صحراؤں سے آئے گی ہوا اور پھر ہوں گے یہاں رقص کناں دوسرے لوگ جل بھنجیں گے کہ ہم اس رات کے ایندھن ہی تو ہیں خیر دیکھیں گے نئی روشنیاں دوسرے لوگ ہم نے یہ کار جنوں کر تو دیا ہے آغاز توڑ ڈالیں ...

    مزید پڑھیے

    وہ جو اک شرط تھی وحشت کی اٹھا دی گئی کیا

    وہ جو اک شرط تھی وحشت کی اٹھا دی گئی کیا میری بستی کسی صحرا میں بسا دی گئی کیا وہی لہجہ ہے مگر یار ترے لفظوں میں پہلے اک آگ سی جلتی تھی بجھا دی گئی کیا جو بڑھی تھی کہ کہیں مجھ کو بہا کر لے جائے میں یہیں ہوں تو وہی موج بہا دی گئی کیا پاؤں میں خاک کی زنجیر بھلی لگنے لگی پھر مری قید ...

    مزید پڑھیے

    وہ ان دنوں تو ہمارا تھا لیکن اب کیا ہے

    وہ ان دنوں تو ہمارا تھا لیکن اب کیا ہے پھر اس سے آج وہی رنج بے سبب کیا ہے تم اس کا وار بچانے کی فکر میں کیوں ہو وہ جانتا ہے مسیحائیوں کا ڈھب کیا ہے دبیز کہر ہے یا نرم دھوپ کی چادر خبر نہیں ترے بعد اے غبار شب کیا ہے دکھا رہا ہے کسے وقت ان گنت منظر اگر میں کچھ بھی نہیں ہوں تو پھر یہ ...

    مزید پڑھیے

    اٹھو یہ منظر شب تاب دیکھنے کے لیے

    اٹھو یہ منظر شب تاب دیکھنے کے لیے کہ نیند شرط نہیں خواب دیکھنے کے لیے عجب حریف تھا میرے ہی ساتھ ڈوب گیا مرے سفینے کو غرقاب دیکھنے کے لیے وہ مرحلہ ہے کہ اب سیل خوں پہ راضی ہیں ہم اس زمین کو شاداب دیکھنے کے لیے جو ہو سکے تو ذرا شہ سوار لوٹ کے آئیں پیادگاں کو ظفر یاب دیکھنے کے ...

    مزید پڑھیے

    شمع تنہا کی طرح صبح کے تارے جیسے

    شمع تنہا کی طرح صبح کے تارے جیسے شہر میں ایک ہی دو ہوں گے ہمارے جیسے چھو گیا تھا کبھی اس جسم کو اک شعلۂ درد آج تک خاک سے اڑتے ہیں شرارے جیسے حوصلے دیتا ہے یہ ابر گریزاں کیا کیا زندہ ہوں دشت میں ہم اس کے سہارے جیسے سخت جاں ہم سا کوئی تم نے نہ دیکھا ہوگا ہم نے قاتل کئی دیکھے ہیں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 5 سے 5