Irfan Siddiqi

عرفان صدیقی

اہم ترین جدید شاعروں میں شامل، اپنے نوکلاسیکی لہجے کے لیے معروف

One of the most-prominent modern poets, famous for his neo-classical poetry.

عرفان صدیقی کی غزل

    اب کے صحرا میں عجب بارش کی ارزانی ہوئی

    اب کے صحرا میں عجب بارش کی ارزانی ہوئی فصل امکاں کو نمو کرنے میں آسانی ہوئی پیاس نے آب رواں کو کر دیا موج سراب یہ تماشا دیکھ کر دریا کو حیرانی ہوئی سر سے سارے خوان خوشبو کے بکھر کر رہ گئے خاک خیمہ تک ہوا پہنچی تو دیوانی ہوئی دور تک اڑنے لگی گرد صدا زنجیر کی کس قدر دیوار زنداں کو ...

    مزید پڑھیے

    زیر محراب نہ بالائے مکاں بولتی ہے

    زیر محراب نہ بالائے مکاں بولتی ہے خامشی آ کے سر خلوت جاں بولتی ہے یہ مرا وہم ہے یا مجھ کو بلاتے ہیں وہ لوگ کان بجتے ہیں کہ موج گزراں بولتی ہے لو سوال دہن بستہ کا آتا ہے جواب تیر سرگوشیاں کرتے ہیں کماں بولتی ہے ایک میں ہوں کہ اس آشوب نوا میں چپ ہوں ورنہ دنیا مرے زخموں کی زباں ...

    مزید پڑھیے

    سخن میں رنگ تمہارے خیال ہی کے تو ہیں

    سخن میں رنگ تمہارے خیال ہی کے تو ہیں یہ سب کرشمے ہوائے وصال ہی کے تو ہیں کہا تھا تم نے کہ لاتا ہے کون عشق کی تاب سو ہم جواب تمہارے سوال ہی کے تو ہیں ذرا سی بات ہے دل میں اگر بیاں ہو جائے تمام مسئلے اظہار حال ہی کے تو ہیں یہاں بھی اس کے سوا اور کیا نصیب ہمیں ختن میں رہ کے بھی چشم ...

    مزید پڑھیے

    وحشت کے ساتھ دشت مری جان چاہیئے

    وحشت کے ساتھ دشت مری جان چاہیئے اس عیش کے لیے سر و سامان چاہیئے کچھ عشق کے نصاب میں کمزور ہم بھی ہیں کچھ پرچۂ سوال بھی آسان چاہیئے تجھ کو سپردگی میں سمٹنا بھی ہے ضرور سچا ہے کاروبار تو نقصان چاہیئے اب تک کس انتظار میں بیٹھے ہوئے ہیں لوگ امید کے لیے کوئی امکان چاہیئے ہوگا یہاں ...

    مزید پڑھیے

    یہ تو صحرا ہے یہاں ٹھنڈی ہوا کب آئے گی

    یہ تو صحرا ہے یہاں ٹھنڈی ہوا کب آئے گی یار، تم کو سانس لینے کی ادا کب آئے گی کوچ کرنا چاہتے ہیں پھر مری بستی کے لوگ پھر تری آواز اے کوہ ندا کب آئے گی نسل تازہ، میں تجھے کیا تجربے اپنے بتاؤں تیرے بڑھتے جسم پر میری قبا کب آئے گی سر برہنہ بیبیوں کے بال چاندی ہو گئے خیمے پھر استادہ ...

    مزید پڑھیے

    ہشیار ہیں تو ہم کو بہک جانا چاہئے

    ہشیار ہیں تو ہم کو بہک جانا چاہئے بے سمت راستہ ہے بھٹک جانا چاہئے دیکھو کہیں پیالے میں کوئی کمی نہ ہو لبریز ہو چکا تو چھلک جانا چاہئے حرف رجز سے یوں نہیں ہوتا کوئی کمال باطن تک اس صدا کی دھمک جانا چاہئے گرتا نہیں مصاف میں بسمل کسی طرح اب دست نیزہ کار کو تھک جانا چاہئے طے ہو ...

    مزید پڑھیے

    حق فتح یاب میرے خدا کیوں نہیں ہوا

    حق فتح یاب میرے خدا کیوں نہیں ہوا تو نے کہا تھا تیرا کہا کیوں نہیں ہوا جب حشر اسی زمیں پہ اٹھائے گئے تو پھر برپا یہیں پہ روز جزا کیوں نہیں ہوا وہ شمع بجھ گئی تھی تو کہرام تھا تمام دل بجھ گئے تو شور عزا کیوں نہیں ہوا واماندگاں پہ تنگ ہوئی کیوں تری زمیں دروازہ آسمان کا وا کیوں ...

    مزید پڑھیے

    فقیری میں یہ تھوڑی سی تن آسانی بھی کرتے ہیں

    فقیری میں یہ تھوڑی سی تن آسانی بھی کرتے ہیں کہ ہم دست کرم دنیا پہ ارزانی بھی کرتے ہیں در روحانیاں کی چاکری بھی کام ہے اپنا بتوں کی مملکت میں کار سلطانی بھی کرتے ہیں جنوں والوں کی یہ شائستگی طرفہ تماشا ہے رفو بھی چاہتے ہیں چاک دامانی بھی کرتے ہیں مجھے کچھ شوق نظارہ بھی ہے ...

    مزید پڑھیے

    بدل گئی ہے فضا نیلے آسمانوں کی

    بدل گئی ہے فضا نیلے آسمانوں کی بہت دنوں میں کھلیں کھڑکیاں مکانوں کی بس ایک بار جو لنگر اٹھے تو پھر کیا تھا ہوائیں تاک میں تھیں جیسے بادبانوں کی کوئی پہاڑ رکا ہے کبھی زمیں کے بغیر ہر ایک بوجھ پنہ چاہتا ہے شانوں کی تو غالباً وہ ہدف ہی حدوں سے باہر تھا یہ کیسے ٹوٹ گئیں ڈوریاں ...

    مزید پڑھیے

    خوشبو کی طرح ساتھ لگا لے گئی ہم کو

    خوشبو کی طرح ساتھ لگا لے گئی ہم کو کوچے سے ترے باد صبا لے گئی ہم کو پتھر تھے کہ گوہر تھے اب اس بات کا کیا ذکر اک موج بہرحال بہا لے گئی ہم کو پھر چھوڑ دیا ریگ سر راہ سمجھ کر کچھ دور تو موسم کی ہوا لے گئی ہم کو تم کیسے گرے آندھی میں چھتنار درختو ہم لوگ تو پتے تھے اڑا لے گئی ہم کو ہم ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 5