اب کے صحرا میں عجب بارش کی ارزانی ہوئی
اب کے صحرا میں عجب بارش کی ارزانی ہوئی فصل امکاں کو نمو کرنے میں آسانی ہوئی پیاس نے آب رواں کو کر دیا موج سراب یہ تماشا دیکھ کر دریا کو حیرانی ہوئی سر سے سارے خوان خوشبو کے بکھر کر رہ گئے خاک خیمہ تک ہوا پہنچی تو دیوانی ہوئی دور تک اڑنے لگی گرد صدا زنجیر کی کس قدر دیوار زنداں کو ...