Akhtar Ansari

اختر انصاری

طنز پر مائل جذباتی شدت کے لئے معروف

Known for his emotional intensity tinged with irony

اختر انصاری کی غزل

    بہار آئی زمانہ ہوا خراباتی

    بہار آئی زمانہ ہوا خراباتی ہمارے دل میں بھی اک لہر کاش آ جاتی ہوا بھی سرد ہے بھیگی ہے رات بھی لیکن سلگ رہی ہے کسی آگ سے مری چھاتی مرے پڑوس میں یہ ذکر ہے کئی دن سے صدا جو آتی تھی رونے کی اب نہیں آتی لگا کے سینے سے شادابیوں کو سو جاتا مجھے بہار جوانی میں موت آ جاتی بجا رہا ہے کوئی ...

    مزید پڑھیے

    چرخ کی سعیٔ جفا کوشش ناکارہ ہے

    چرخ کی سعیٔ جفا کوشش ناکارہ ہے گردش دہر یہاں جنبش گہوارہ ہے چاند تاروں کے تلاطم سے یہ آتا ہے خیال دل وحشی کوئی طوفاں زدہ سیارہ ہے بہہ گئے دیدۂ نم ناک سے دریا لیکن دل وہی ایک دہکتا ہوا انگارہ ہے دل ہوا سوز جہنم میں گرفتار مگر روح اب بھی کسی فردوس میں آوارہ ہے کیسی تقدیر کی گردش ...

    مزید پڑھیے

    اپنی بہار پہ ہنسنے والو کتنے چمن خاشاک ہوئے

    اپنی بہار پہ ہنسنے والو کتنے چمن خاشاک ہوئے اپنے رفو کو گننے والو کتنے گریباں چاک ہوئے دیوانوں کو کون بتائے آج کی رسم اور آج کی بات اس نے انہیں کی سمت نظر کی عشق میں جو بے باک ہوئے شعبدۂ یک طرز کرم ہے کیسی سزا اور کیسی جزا موج تبسم جب لہرائی تر دامن بھی پاک ہوئے رخ دیکھا جس سمت ...

    مزید پڑھیے

    خزاں میں آگ لگاؤ بہار کے دن ہیں

    خزاں میں آگ لگاؤ بہار کے دن ہیں نئے شگوفے کھلاؤ بہار کے دن ہیں الٹ دو تختہ خزاں کی تباہ کاری کا بساط عیش بچھاؤ بہار کے دن ہیں عذار گل کی دہک سے جلا کے کانٹوں کو لگی دلوں کی بجھاؤ بہار کے دن ہیں ملا کے قطرۂ شبنم میں رنگ و نکہت گل کوئی شراب بناؤ بہار کے دن ہیں بھرے کٹورے چمن کے یہ ...

    مزید پڑھیے

    جاں سپاری کے بھی ارماں زندگی کی آس بھی

    جاں سپاری کے بھی ارماں زندگی کی آس بھی حفظ ناموس الم بھی نیش غم کا پاس بھی خاک در بر ہی سہی میں خاک بھی وہ خاک ہے جس میں میرے زخم دل کی بو بھی ہے اور باس بھی کتنے دور چرخ ان آنکھوں نے دیکھے کچھ نہ پوچھ مٹ چکا ہے وقت کی رفتار کا احساس بھی ہائے وہ اک نشتر آگیں نیشتر افروز یاد جس کے ...

    مزید پڑھیے

    طبع عشرت پسند رکھتا ہوں

    طبع عشرت پسند رکھتا ہوں اک دل دردمند رکھتا ہوں بہت کہتا نہیں میں پستی کو اپنی فطرت بلند رکھتا ہوں چشم باطن سے دیکھتا ہوں میں چشم ظاہر کو بند رکھتا ہوں لفظ شیریں ہیں اور معنی تلخ زہر آمیز قند رکھتا ہوں کامیابی محال ہے اخترؔ ذوق اتنا بلند رکھتا ہوں

    مزید پڑھیے

    میں دل کو چیر کے رکھ دوں یہ ایک صورت ہے

    میں دل کو چیر کے رکھ دوں یہ ایک صورت ہے بیاں تو ہو نہیں سکتی جو اپنی حالت ہے مرے سفینے کو دھارے پہ ڈال دے کوئی میں ڈوب جاؤں کہ تر جاؤں میری قسمت ہے رگوں میں دوڑتی ہیں بجلیاں لہو کے عوض شباب کہتے ہیں جس چیز کو قیامت ہے لطافتیں سمٹ آتی ہیں خلد کی دل میں تصورات میں اللہ کتنی قدرت ...

    مزید پڑھیے

    اب وہ سینہ ہے مزار آرزو

    اب وہ سینہ ہے مزار آرزو تھا جو اک دن شعلہ زار آرزو اب تک آنکھوں سے ٹپکتا ہے لہو بجھ گیا تھا دل میں خار آرزو رنگ و بو میں ڈوبے رہتے تھے حواس ہائے کیا شے تھی بہار آرزو

    مزید پڑھیے

    مطرب دل کی وہ تانیں کیا ہوئیں

    مطرب دل کی وہ تانیں کیا ہوئیں وہ تخیل کی اڑانیں کیا ہوئیں کیا ہوئے وہ ترچھی نظروں کے خدنگ ابرووں کی وہ کمانیں کیا ہوئیں وہ ادائیں جن پہ ہوتی تھیں نثار چاہنے والوں کی جانیں کیا ہوئیں کیا ہوئے ٹوٹے دلوں کے زمزمے بے زبانوں کی زبانیں کیا ہوئیں کیا ہوئے اخترؔ امیدوں کے حصار وہ ...

    مزید پڑھیے

    صدا کچھ ایسی مرے گوش دل میں آتی ہے

    صدا کچھ ایسی مرے گوش دل میں آتی ہے کوئی بنائے کہن جیسے لڑکھڑاتی ہے رچا ہوا ہے فضاؤں میں ایک اتھاہ ہراس دماغ شل ہے مگر روح سنسناتی ہے مجھے یقین ہے آندھی کوئی اٹھی ہے کہیں کہ لو چراغ شبستاں کی تھرتھراتی ہے امید یاس کے گہرے خموش جنگل میں ہوائے شام کی مانند سرسراتی ہے سوال ہے غم ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 5