ملتا نہیں مجھ کو نقش اپنا مجھ میں
ملتا نہیں مجھ کو نقش اپنا مجھ میں دنیا ہے کہ ڈھونڈھتی ہے دنیا مجھ میں گمبھیر بہت ہے شخصیت میری بھی دریا مجھ میں ہے اور صحرا مجھ میں
ملتا نہیں مجھ کو نقش اپنا مجھ میں دنیا ہے کہ ڈھونڈھتی ہے دنیا مجھ میں گمبھیر بہت ہے شخصیت میری بھی دریا مجھ میں ہے اور صحرا مجھ میں
منجدھار میں ہوں پاس کنارا بھی نہیں بس میں مرے اس درد کا چارہ بھی نہیں دنیا کی روش سے خوش نہیں ہوں لیکن دنیا کو بدل دینے کا یارا بھی نہیں
شعلے ہیں کہیں تیز کہیں ہیں مدھم جاری ہے عمل اک ارتقا کا پیہم ہیں اس کی لپیٹ میں سمندر صحرا پھیلی ہے نمو کی آگ عالم عالم
برباد سکون در و دیوار نہ ہو بے حرمتیٔ کوچہ و بازار نہ ہو روکو روکو ان آندھیوں کو روکو تہذیب کا شامیانہ مسمار نہ ہو
نفرت کی ہوا بن میں چلائی کس نے جل اٹھی زمیں آگ لگائی کس نے اٹھتی ہیں جہاں کی انگلیاں کس کی طرف یاں جیت کے ہاری ہے لڑائی کس نے
قبر در و دیوار سے آگے نکلے ہر ثابت و سیار سے آگے نکلے جولاں ہوئے ہم جو با جلال و جبروت آواز کی رفتار سے آگے نکلے
کس نہج سے ہم نے اک کہانی کہہ دی دو باتوں میں بات دل کی ساری کہہ دی لفظوں کی کفایت بھی ہنر ہے اکبرؔ جب کہہ نہ سکے غزل رباعی کہہ دی
ہر شے بہ ہر انداز الگ ہوتی ہے ہر فکر کی پرواز الگ ہوتی ہے ہر عہد کو دیکھ اس کے پس منظر میں ہر عہد کی آواز الگ ہوتی ہے
دنیا کبھی ہو سکی نہ ہم راز مری کیا جانے تھی کس فضا میں پرواز مری لہجہ میں کسی اور کا اپنا نہ سکا لے ڈوبی مجھے منفرد آواز مری
کب فکر و خیال کا اثاثہ کم ہے لکھا ہے بہت لوگوں نے سوچا کم ہے ہر چند کمی نہیں ہے لفظوں کی مگر لفظوں کے برتنے کا سلیقہ کم ہے