Akbar Hyderabadi

اکبر حیدرآبادی

اکبر حیدرآبادی کی غزل

    آنکھ میں آنسو کا اور دل میں لہو کا کال ہے

    آنکھ میں آنسو کا اور دل میں لہو کا کال ہے ہے تمنا کا وہی جو زندگی کا حال ہے یوں دھواں دینے لگا ہے جسم اور جاں کا الاؤ جیسے رگ رگ میں رواں اک آتش سیال ہے پھیلتے جاتے ہیں دام نارسی کے دائرے تیرے میرے درمیاں کن حادثوں کا جال ہے گھر گئی ہے دو زمانوں کی کشاکش میں حیات اک طرف زنجیر ...

    مزید پڑھیے

    شاخ بلند بام سے اک دن اتر کے دیکھ

    شاخ بلند بام سے اک دن اتر کے دیکھ انبار برگ و بار خزاں میں بکھر کے دیکھ مٹی کے سادگی میں الگ سا جمال ہے رنگوں کی نکہتوں کی قبا تار کرکے دیکھ امکاں کی وسعتوں کے افق زار کھل گئے پر تولنے لگے ہیں پرندے سحر کے دیکھ ظلمت کی کشتیوں کو بھنور ہے یہ روشنی در کھل رہے ہیں دانش و علم و خبر ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 3