آنکھ میں آنسو کا اور دل میں لہو کا کال ہے
آنکھ میں آنسو کا اور دل میں لہو کا کال ہے ہے تمنا کا وہی جو زندگی کا حال ہے یوں دھواں دینے لگا ہے جسم اور جاں کا الاؤ جیسے رگ رگ میں رواں اک آتش سیال ہے پھیلتے جاتے ہیں دام نارسی کے دائرے تیرے میرے درمیاں کن حادثوں کا جال ہے گھر گئی ہے دو زمانوں کی کشاکش میں حیات اک طرف زنجیر ...