Akbar Hyderabadi

اکبر حیدرآبادی

اکبر حیدرآبادی کی غزل

    جب صبح کی دہلیز پہ بازار لگے گا

    جب صبح کی دہلیز پہ بازار لگے گا ہر منظر شب خواب کی دیوار لگے گا پل بھر میں بکھر جائیں گے یادوں کے ذخیرے جب ذہن پہ اک سنگ گراں بار لگے گا گوندھے ہیں نئی شب نے ستاروں کے نئے ہار کب گھر مرا آئینۂ انوار لگے گا گر سیل خرافات میں بہہ جائیں یہ آنکھیں ہر حرف یقیں کلمۂ انکار لگے ...

    مزید پڑھیے

    کہکشاں کے تناظر میں ہم کیا ہمارا ستارہ ہے کیا

    کہکشاں کے تناظر میں ہم کیا ہمارا ستارہ ہے کیا ان گنت آفتابوں کی اقلیم میں اک شرارہ ہے کیا کون سمجھے زباں برگ و اشجار کی دشت و کہسار کی کون جانے کہ اس بے کراں خامشی میں اشارہ ہے کیا ہم محبت کو اک منصب عاشقانہ سمجھتے رہے یہ نہ سوچا محبت کی سوداگری میں خسارہ ہے کیا یہ طلسم تماشا ...

    مزید پڑھیے

    دہکتے کچھ خیال ہیں عجیب عجیب سے

    دہکتے کچھ خیال ہیں عجیب عجیب سے کہ ذہن میں سوال ہیں عجیب عجیب سے تھا آفتاب صبح کچھ تو شام کو کچھ اور عروج اور زوال ہیں عجیب عجیب سے ہر ایک شاہراہ پر دکانوں میں سجے طرح طرح کے مال ہیں عجیب عجیب سے وہ پاس ہو کے دور ہے تو دور ہو کے پاس فراق اور وصال ہیں عجیب عجیب سے نکلنا ان سے بچ ...

    مزید پڑھیے

    نگہ شوق سے حسن گل و گلزار تو دیکھ

    نگہ شوق سے حسن گل و گلزار تو دیکھ آنکھیں کھل جائیں گی یہ منظر دلدار تو دیکھ پیکر شاہد ہستی میں ہے اک آنچ نئی لذت دید اٹھا شعلۂ رخسار تو دیکھ شوخئ نقش کوئی حادثۂ وقت نہیں معجزہ کاریٔ خون دل فن کار تو دیکھ ہر دکاں اپنی جگہ حیرت نظارہ ہے فکر انساں کے سجائے ہوئے بازار تو دیکھ بن ...

    مزید پڑھیے

    ہیں سو طرح کے رنگ ہر اک نقش پا میں دیکھ

    ہیں سو طرح کے رنگ ہر اک نقش پا میں دیکھ انساں کا حسن آئنۂ ارتقا میں دیکھ یوں ہی نہیں یہ برتریٔ نسل آدمی گزرے ہیں کیسے حادثے سعئ بقا میں دیکھ صرف نظر ہیں وقت کی پنہائیاں تمام دنیائے نارسا مری فکر رسا میں دیکھ یہ روشنی تو لو ہے اسی اک چراغ کی تزئین دہر ذہن کی نشو و نما میں ...

    مزید پڑھیے

    یہ کون میری تشنگی بڑھا بڑھا کے چل دیا

    یہ کون میری تشنگی بڑھا بڑھا کے چل دیا کہ لو چراغ درد کی بڑھا بڑھا کے چل دیا یہ میرا دل ہی جانتا ہے کتنا سنگ دل ہے وہ کہ مجھ سے اپنی دوستی بڑھا بڑھا کے چل دیا بچھڑ کے اس سے زندگی وبال جان ہو گئی وہ دل میں شوق خودکشی بڑھا بڑھا کے چل دیا کروں تو اب میں کس سے اپنی وسعت نظر کی بات وہ ...

    مزید پڑھیے

    جن پہ اجل طاری تھی ان کو زندہ کرتا ہے

    جن پہ اجل طاری تھی ان کو زندہ کرتا ہے سورج جل کر کتنے دلوں کو ٹھنڈا کرتا ہے کتنے شہر اجڑ جاتے ہیں کتنے جل جاتے ہیں اور چپ چاپ زمانہ سب کچھ دیکھا کرتا ہے مجبوروں کی بات الگ ہے ان پر کیا الزام جس کو نہیں کوئی مجبوری وہ کیا کرتا ہے ہمت والے پل میں بدل دیتے ہیں دنیا کو سوچنے والا دل ...

    مزید پڑھیے

    گھٹن عذاب بدن کی نہ میری جان میں لا

    گھٹن عذاب بدن کی نہ میری جان میں لا بدل کے گھر مرا مجھ کو مرے مکان میں لا مری اکائی کو اظہار کا وسیلہ دے مری نظر کو مرے دل کو امتحان میں لا سخی ہے وہ تو سخاوت کی لاج رکھ لے گا سوال عرض طلب کا نہ درمیان میں لا دل وجود کو جو چیر کر گزر جائے اک ایسا تیر تو اپنی کڑی کمان میں لا ہے وہ ...

    مزید پڑھیے

    کل عالم وجود کہ اک دشت نور تھا

    کل عالم وجود کہ اک دشت نور تھا سارا حجاب تیرہ دلی کا قصور تھا سمجھے تھے جہد عشق میں ہم سرخ رو ہوئے دیکھا مگر تو شیشۂ دل چور چور تھا پہنچے نہ یوں ہی منزل اظہار ذات تک تحت شعور اک سفر لا شعور تھا تھا جو قریب اس کو بصیرت نہ تھی نصیب جو دیکھتا تھا مجھ کو بہت مجھ سے دور تھا مبہم تھے ...

    مزید پڑھیے

    دل دبا جاتا ہے کتنا آج غم کے بار سے

    دل دبا جاتا ہے کتنا آج غم کے بار سے کیسی تنہائی ٹپکتی ہے در و دیوار سے منزل اقرار اپنی آخری منزل ہے اب ہم کہ آئے ہیں گزر کر جادۂ انکار سے ترجماں تھا عکس اپنے چہرۂ گم گشتہ کا اک صدا آتی رہی آئینۂ اسرار سے ماند پڑتے جا رہے تھے خواب تصویروں کے رنگ رات اترتی جا رہی تھی درد کی دیوار ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 3