جب صبح کی دہلیز پہ بازار لگے گا
جب صبح کی دہلیز پہ بازار لگے گا ہر منظر شب خواب کی دیوار لگے گا پل بھر میں بکھر جائیں گے یادوں کے ذخیرے جب ذہن پہ اک سنگ گراں بار لگے گا گوندھے ہیں نئی شب نے ستاروں کے نئے ہار کب گھر مرا آئینۂ انوار لگے گا گر سیل خرافات میں بہہ جائیں یہ آنکھیں ہر حرف یقیں کلمۂ انکار لگے ...