Akbar Hyderabadi

اکبر حیدرآبادی

اکبر حیدرآبادی کی غزل

    زندان صبح و شام میں تو بھی ہے میں بھی ہوں

    زندان صبح و شام میں تو بھی ہے میں بھی ہوں اک گردش مدام میں تو بھی ہے میں بھی ہوں بے فرش و بام سلسلۂ کائنات کے اس بے ستوں نظام میں تو بھی ہے میں بھی ہوں بے سال و سن زمانوں میں پھیلے ہوئے ہیں ہم بے رنگ و نسل نام میں تو بھی ہے میں بھی ہوں اس دائمی حصار میں ہم کو مفر کہاں ذروں کے ...

    مزید پڑھیے

    فتنے عجب طرح کے سمن زار سے اٹھے

    فتنے عجب طرح کے سمن زار سے اٹھے سارے پرند شاخ ثمردار سے اٹھے دیوار نے قبول کیا سیل نور کو سائے تمام تر پس دیوار سے اٹھے جن کی نمو میں تھی نہ معاون ہوا کوئی ایسے بھی گل زمین خس و خار سے اٹھے تسلیم کی سرشت بس ایجاب اور قبول سارے سوال جرأت انکار سے اٹھے شہر تعلقات میں اڑتی ہے جن ...

    مزید پڑھیے

    ہاں یہی شہر مرے خوابوں کا گہوارہ تھا

    ہاں یہی شہر مرے خوابوں کا گہوارہ تھا انہی گلیوں میں کہیں میرا صنم خانہ تھا اسی دھرتی پہ تھے آباد سمن زار مرے اسی بستی میں مری روح کا سرمایہ تھا تھی یہی آب و ہوا نشوونما کی ضامن اسی مٹی سے مرے فن کا خمیر اٹھا تھا اب نہ دیواروں سے نسبت ہے نہ بام و در سے کیا اسی گھر سے کبھی میرا ...

    مزید پڑھیے

    بدن سے رشتۂ جاں معتبر نہ تھا میرا

    بدن سے رشتۂ جاں معتبر نہ تھا میرا میں جس میں رہتا تھا شاید وہ گھر نہ تھا میرا قریب ہی سے وہ گزرا مگر خبر نہ ہوئی دل اس طرح تو کبھی بے خبر نہ تھا میرا میں مثل سبزۂ بیگانہ جس چمن میں رہا وہاں کے گل نہ تھے میرے ثمر نہ تھا میرا نہ روشنی نہ حرارت ہی دے سکا مجھ کو پرائی آگ میں کوئی شرر ...

    مزید پڑھیے

    عطا ہوئی کسے سند نظر نظر کی بات ہے

    عطا ہوئی کسے سند نظر نظر کی بات ہے ہوا ہے کون نامزد نظر نظر کی بات ہے گل و ستارہ و قمر سبھی حسین ہیں مگر ہے کون ان میں مستند نظر نظر کی بات ہے اضافی اعتبار ہے تعین مقام بھی ہے پست بھی بلند قد نظر نظر کی بات ہے برے بھلے میں فرق ہے یہ جانتے ہیں سب مگر ہے کون نیک کون بد نظر نظر کی بات ...

    مزید پڑھیے

    جن کے نصیب میں آب و دانہ کم کم ہوتا ہے

    جن کے نصیب میں آب و دانہ کم کم ہوتا ہے مائل ان کی سمت زمانہ کم کم ہوتا ہے رستے ہی میں ہو جاتی ہیں باتیں بس دو چار اب تو ان کے گھر بھی جانا کم کم ہوتا ہے مشکل ہی سے کر لیتی ہے دنیا اسے قبول ایسی حقیقت جس میں فسانہ کم کم ہوتا ہے کبھی جو باتیں عشق کے سال و سن کا حاصل تھیں اب ان باتوں ...

    مزید پڑھیے

    سایوں سے بھی ڈر جاتے ہیں کیسے کیسے لوگ

    سایوں سے بھی ڈر جاتے ہیں کیسے کیسے لوگ جیتے جی ہی مر جاتے ہیں کیسے کیسے لوگ چھوڑ کے مال و دولت ساری دنیا میں اپنی خالی ہاتھ گزر جاتے ہیں کیسے کیسے لوگ بجھے دلوں کو روشن کرنے سچ کو زندہ رکھنے جان سے اپنی گزر جاتے ہیں کیسے کیسے لوگ عقل و خرد کے بل بوتے پر سب کو حیراں کر کے کام ...

    مزید پڑھیے

    دور تک بس اک دھندلکا گرد تنہائی کا تھا

    دور تک بس اک دھندلکا گرد تنہائی کا تھا راستوں کو رنج میری آبلہ پائی کا تھا فصل گل رخصت ہوئی تو وحشتیں بھی مٹ گئیں ہٹ گیا سایہ جو اک آسیب صحرائی کا تھا توڑ ہی ڈالا سمندر نے طلسم خود سری زعم کیا کیا ساحلوں کو اپنی پہنائی کا تھا اور مبہم ہو گیا پیہم ملاقاتوں کے ساتھ وہ جو اک موہوم ...

    مزید پڑھیے

    بس اک تسلسل تکرار قرب و دوری تھا

    بس اک تسلسل تکرار قرب و دوری تھا وصال و ہجر کا ہر مرحلہ عبوری تھا مری شکست بھی تھی میری ذات سے منسوب کہ میری فکر کا ہر فیصلہ شعوری تھا تھی جیتی جاگتی دنیا مری محبت کی نہ خواب کا سا وہ عالم کہ لا شعوری تھا تعلقات میں ایسا بھی ایک موڑ آیا کہ قربتوں پہ بھی دل کو گمان دوری ...

    مزید پڑھیے

    ستم زدہ کئی بشر قدم قدم پہ تھے

    ستم زدہ کئی بشر قدم قدم پہ تھے شکستہ دل شکستہ گھر قدم قدم پہ تھے ملے ہیں رہزنوں کی صف میں وہ بھی آخرش شریک رہ جو راہ بر قدم قدم پہ تھے ہوا گزر ہمارا کیسے شہر علم میں کہ نکتہ داں و دیدہ ور قدم قدم پہ تھے ہے کیا عجب کہ خواب تھا وہ منظر حسیں ہزاروں لوگ خوش نظر قدم قدم پہ تھے تھے جوق ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 3