زندان صبح و شام میں تو بھی ہے میں بھی ہوں
زندان صبح و شام میں تو بھی ہے میں بھی ہوں اک گردش مدام میں تو بھی ہے میں بھی ہوں بے فرش و بام سلسلۂ کائنات کے اس بے ستوں نظام میں تو بھی ہے میں بھی ہوں بے سال و سن زمانوں میں پھیلے ہوئے ہیں ہم بے رنگ و نسل نام میں تو بھی ہے میں بھی ہوں اس دائمی حصار میں ہم کو مفر کہاں ذروں کے ...