Akbar Hyderabadi

اکبر حیدرآبادی

اکبر حیدرآبادی کے تمام مواد

22 غزل (Ghazal)

    زندان صبح و شام میں تو بھی ہے میں بھی ہوں

    زندان صبح و شام میں تو بھی ہے میں بھی ہوں اک گردش مدام میں تو بھی ہے میں بھی ہوں بے فرش و بام سلسلۂ کائنات کے اس بے ستوں نظام میں تو بھی ہے میں بھی ہوں بے سال و سن زمانوں میں پھیلے ہوئے ہیں ہم بے رنگ و نسل نام میں تو بھی ہے میں بھی ہوں اس دائمی حصار میں ہم کو مفر کہاں ذروں کے ...

    مزید پڑھیے

    فتنے عجب طرح کے سمن زار سے اٹھے

    فتنے عجب طرح کے سمن زار سے اٹھے سارے پرند شاخ ثمردار سے اٹھے دیوار نے قبول کیا سیل نور کو سائے تمام تر پس دیوار سے اٹھے جن کی نمو میں تھی نہ معاون ہوا کوئی ایسے بھی گل زمین خس و خار سے اٹھے تسلیم کی سرشت بس ایجاب اور قبول سارے سوال جرأت انکار سے اٹھے شہر تعلقات میں اڑتی ہے جن ...

    مزید پڑھیے

    ہاں یہی شہر مرے خوابوں کا گہوارہ تھا

    ہاں یہی شہر مرے خوابوں کا گہوارہ تھا انہی گلیوں میں کہیں میرا صنم خانہ تھا اسی دھرتی پہ تھے آباد سمن زار مرے اسی بستی میں مری روح کا سرمایہ تھا تھی یہی آب و ہوا نشوونما کی ضامن اسی مٹی سے مرے فن کا خمیر اٹھا تھا اب نہ دیواروں سے نسبت ہے نہ بام و در سے کیا اسی گھر سے کبھی میرا ...

    مزید پڑھیے

    بدن سے رشتۂ جاں معتبر نہ تھا میرا

    بدن سے رشتۂ جاں معتبر نہ تھا میرا میں جس میں رہتا تھا شاید وہ گھر نہ تھا میرا قریب ہی سے وہ گزرا مگر خبر نہ ہوئی دل اس طرح تو کبھی بے خبر نہ تھا میرا میں مثل سبزۂ بیگانہ جس چمن میں رہا وہاں کے گل نہ تھے میرے ثمر نہ تھا میرا نہ روشنی نہ حرارت ہی دے سکا مجھ کو پرائی آگ میں کوئی شرر ...

    مزید پڑھیے

    عطا ہوئی کسے سند نظر نظر کی بات ہے

    عطا ہوئی کسے سند نظر نظر کی بات ہے ہوا ہے کون نامزد نظر نظر کی بات ہے گل و ستارہ و قمر سبھی حسین ہیں مگر ہے کون ان میں مستند نظر نظر کی بات ہے اضافی اعتبار ہے تعین مقام بھی ہے پست بھی بلند قد نظر نظر کی بات ہے برے بھلے میں فرق ہے یہ جانتے ہیں سب مگر ہے کون نیک کون بد نظر نظر کی بات ...

    مزید پڑھیے

تمام

9 نظم (Nazm)

    خالق اور تخلیق

    شاعر نے کہا نظم لکھی ہے میں نے پوشاک خیالات کی سی ہے میں نے اک آب نئی سخن کو دی ہے میں نے تاریکیوں میں روشنی کی ہے میں نے تب نظم نے آہ سرد بھر کے یہ کہا میں دست ہوس سے بھی گریزاں اب تک تھی صورت بوئے گل پریشاں اب تک لیکن یہ کیا کہ ہو گئی ہوں میں آج الفاظ کے آواز کے پنجرے میں اسیر پڑھنے ...

    مزید پڑھیے

    وارث

    وہ ابنارمل نہیں تھا صرف اس کو نارمل بننے کی حسرت تھی کئی خانوں میں اس کی زندگی بٹنے لگی تھی وہ اپنی کوشش نا معتبر سے تنگ آ کر نیم جاں ہو کر ایک خانے میں پنہ لینے لگا تھا بنی آماج گاہ تیر نفرت شخصیت اس کی اسے بھی خود سے نفرت ہو چکی تھی مگر اس نفرت مانوس کی تکرار سے اس نے درشت و نا ...

    مزید پڑھیے

    حصار اندر حصار

    میرے ارد گرد اک حصار ہے اک حصار جس کے گیر و دار میں بے اماں غبار میں میرا جسم میری ذات تار تار ہے وقت ایک لفظ جو اسیر اپنے معنوی بہشت میں وقت اک تسلسل خیال جس کے دوسرے اک خلاے بے کراں کی جاں کشاں گرفت ہے اس حصار سے اگر نکل سکوں (جسم منجمد چٹان برف کی میں اگر پگھل سکوں) ریزہ ریزہ ...

    مزید پڑھیے

    سچا دیا

    اپنی پچھلی سالگرہ پر میں یہ سوچ رہا تھا کتنے دیے جلاؤں میں؟ کتنے دیے بجھاؤں میں؟ میرے اندر دیوؤں کا ایسا کب کوئی ہنگامہ تھا؟ میں تو سر سے پانو تلک خود ایک دیے کا سایہ تھا عمر کی گنتی کے وہ دیے سب جھوٹے تھے بے معنی تھے ایک دیا ہی سچا تھا اور وہ میری روح کے اندر جلتا تھا

    مزید پڑھیے

    اجل سرائے تیرگی

    میں گھپ اندھیرے میں جا چھپا تھا کہ روشنی میری جاں کی بیری مرا تعاقب نہ کرنے پائے مگر اندھیرے گرسنہ جاں عنکبوت کی شاطری دکھا کر مجھے نحیف و نزار پا کر خود اپنے جالے میں کس کے میرے بدن کو مسمار کر چکے تھے!

    مزید پڑھیے

تمام

11 رباعی (Rubaai)

تمام