افزوں جو شباب دم بدم ہوتا ہے
افزوں جو شباب دم بدم ہوتا ہے گھٹتی ہے عمر کیا ستم ہوتا ہے ہے مثل چراغ زندگانی مائلؔ بتی جلتی ہے تیل کم ہوتا ہے
حیدرآباد دکن کے پرگو اور قادرالکلام شاعر، جنہوں نے نہایت سنگلاخ اور مشکل زمینوں میں شاعری کی، رباعی گوئی کے لیے بھی جانے جاتے ہیں
Prominent and technically proficient poet from Hyderabad, Deccan; wrote poetry in difficult metres, also known for his Rubais
افزوں جو شباب دم بدم ہوتا ہے گھٹتی ہے عمر کیا ستم ہوتا ہے ہے مثل چراغ زندگانی مائلؔ بتی جلتی ہے تیل کم ہوتا ہے
کہتے ہیں کہ رونق جمالی ہوں میں شہرہ ہے کہ جلوۂ جلالی ہوں میں جو نام پسند آئے پکارو مجھ کو کچھ بھی نہیں تصویر خیالی ہوں میں
اقرار نگر کو گدائی کا ہے دعویٰ افلاس و بے نوائی کا ہے ہر بات میں ہے فروتنی کا اظہار یہ بھی انداز خود ستائی کا ہے
اللہ متاع زندگانی مل جائے پھر عہد شباب کی نشانی مل جائے تھی آس بڑھاپے میں تری ملنے کی جب تو نہ ملا تو پھر جوانی مل جائے
ہے عرش بھی یک فرش قدم کا تیرے تقدیر نوشتہ ہے ہے قلم کا تیرے رحمت کے بقیہ سے بنا ہے دوزخ اللہ رے شعبدہ کرم کا تیرے
یا رب مرے دل میں ہے اجالا تیرا آئینے کی ہے بغل میں جلوا تیرا مائلؔ کیوں آپ منہ نہ دیکھے اپنا یاں بھی تو چمک رہا ہے چہرا تیرا
ثابت ہے تن میں بادشاہی دل کی پر کی تری نخوت نے تباہی دل کی زاہد یہ غرور داغ پیشانی پر منہ پر نکل آئی ہے سیاہی دل کی
مانا واعظ بڑا ہی علامہ ہے محشر کا زبان پہ اس کے ہنگامہ ہے کیوں کر نہ ملے نجات سب کو مائلؔ قسمت کے مطابق تو عمل نامہ ہے
ہے سوئے فلک نظر تماشا کیا ہے انصاف کرو دونوں میں کون اچھا ہے آنگن میں نکل کے چاند کیا دیکھتے ہو خود چاند تمہیں دیکھنے کو نکلا ہے