کچھ لطف سخن وقت ملاقات نہیں
کچھ لطف سخن وقت ملاقات نہیں لب پر تعریف دل پہ گر ہات نہیں یک واہ کرے تو دوسرا آہ کرے جس میں نہ اثر ہو وہ مری بات نہیں
حیدرآباد دکن کے پرگو اور قادرالکلام شاعر، جنہوں نے نہایت سنگلاخ اور مشکل زمینوں میں شاعری کی، رباعی گوئی کے لیے بھی جانے جاتے ہیں
Prominent and technically proficient poet from Hyderabad, Deccan; wrote poetry in difficult metres, also known for his Rubais
کچھ لطف سخن وقت ملاقات نہیں لب پر تعریف دل پہ گر ہات نہیں یک واہ کرے تو دوسرا آہ کرے جس میں نہ اثر ہو وہ مری بات نہیں
پیدل نہ مجھے روز شمار ان سے دے مرکب پہ لیے گنہ کا بار آنے دے میں گھر سے لحد تک بھی گیا ہو کے سوار محشر میں بھی تو مجھ کو سوار آنے دے
پیری میں شباب کی نشانی نہ ملی افسوس متاع زندگانی نہ ملی جو کچھ کھویا تھا ڈھونڈ کر پھر پایا ہر چیز ملی مگر جوانی نہ ملی
غفلت کے تخم بونے والے اٹھے اوقات عزیز کھونے والے اٹھے چمکا جو تیرا نور تو آنکھیں کھولیں سورج نکلا تو سونے والے اٹھے
میں سر پہ گناہوں کا لئے بار آیا میں حشر میں پی کے مست و سرشار آیا دیکھا جو مجھے جھومتے اور آگ لگی دوزخ یہ پکارا وہ گنہ گار آیا
نقشہ لیل و نہار کا کھینچا ہے موسم کا خط جدا جدا کھینچا ہے سورج نقطۂ زمین کی گردش پرکار یہ دائرہ فلسفی نے کیا کھینچا ہے
میں اپنے کفن کا سینے والا نکلا ہر سانس میں مر کے جینے والا نکلا مائلؔ کیا ہوش کی یہی باتیں ہیں صوفی سمجھا تو پینے والا نکلا
ہم راہ عدم سے اضطراب آیا ہے میرے لیے دنیا میں عذاب آیا ہے طفلی میں پڑی تھی دونوں ہاتھوں پر مار اب دل کی ہے باری کہ شباب آیا ہے
اشک آئے غم شہ سے جو چشم تر میں دل جلنے لگا تڑپ تڑپ کر بر میں مائلؔ یہ ماجرا نہ دیکھا نہ سنا پانی سے لگی آگ خدا کے گھر میں
یہ مجھ سے نہ پوچھ تو نے کیا کیا دیکھا یا رب جو کچھ نظر نے دیکھا دیکھا خود ہی کو ٹٹولنے کی نوبت آئی اچھا میں نے ترا تماشا دیکھا