Ahmad Husain Mail

احمد حسین مائل

  • 1914

حیدرآباد دکن کے پرگو اور قادرالکلام شاعر، جنہوں نے نہایت سنگلاخ اور مشکل زمینوں میں شاعری کی، رباعی گوئی کے لیے بھی جانے جاتے ہیں

Prominent and technically proficient poet from Hyderabad, Deccan; wrote poetry in difficult metres, also known for his Rubais

احمد حسین مائل کی غزل

    ہو گئے مضطر دیکھتے ہی وہ ہلتی زلفیں پھرتی نظر ہم

    ہو گئے مضطر دیکھتے ہی وہ ہلتی زلفیں پھرتی نظر ہم دیتے ہیں دل اک آفت جاں کو تھامے ہوئے ہاتھوں سے جگر ہم غیر کو گر وہ پیار کریں گے اپنے لہو میں ہوں گے تر ہم ڈال ہی دیں گے ان کے قدم پر کاٹ کر اپنے ہاتھ سے سر ہم صلح ہوئی تو نالے کھینچے یوں کرتے ہیں سب کو خبر ہم پیٹتے ہیں سینے کا ...

    مزید پڑھیے

    زمزمہ نالۂ بلبل ٹھہرے

    زمزمہ نالۂ بلبل ٹھہرے میں جو فریاد کروں غل ٹھہرے نغمۂ کن کے کرشمے دیکھو کہیں قم قم کہیں قلقل ٹھہرے جال میں کاتب اعمال پھنسیں دوش پر آ کے جو کاکل ٹھہرے رات دن رہتی ہے گردش ان کو چاند سورج قدح مل ٹھہرے میرا کہنا ترا سننا معلوم جنبش لب ہی اگر گل ٹھہرے جان کر بھی وہ نہ جانیں مجھ ...

    مزید پڑھیے

    نکلی جو روح ہو گئے اجزائے‌ تن خراب

    نکلی جو روح ہو گئے اجزائے‌ تن خراب اک شمع بجھ گئی تو ہوئی انجمن خراب کیوں ڈالتا ہے خاک کہ ہوگا کفن خراب میں ہوں سفید پوش نہ کر پیرہن خراب جی میں یہ ہے کہ دل ہی کو سجدے کیا کروں دیر و حرم میں لوگ ہیں اے جان من خراب نازک دلوں کا حسن ہے رنگ شکستگی پھٹنے سے کب گلوں کا ہوا پیرہن ...

    مزید پڑھیے

    روئے تاباں مانگ موئے سر دھواں بتی چراغ

    روئے تاباں مانگ موئے سر دھواں بتی چراغ کیا نہیں انساں کی گردن پر دھواں بتی چراغ کچھ نہ پوچھو زاہدوں کے باطن و ظاہر کا حال ہے اندھیرا گھر میں اور باہر دھواں بتی چراغ دود‌ افغان و رگ جان و سویدا دل میں ہے بند ہے قندیل کے اندر دھواں بتی چراغ طور پر جا کر چراغ طور کیوں دیکھے ...

    مزید پڑھیے

    شب ماہ میں جو پلنگ پر مرے ساتھ سوئے تو کیا ہوئے

    شب ماہ میں جو پلنگ پر مرے ساتھ سوئے تو کیا ہوئے کبھی لپٹے بن کے وہ چاندنی کبھی چاند بن کے جدا ہوئے ہوئے وقت آخری مہرباں دم اولیں جو خفا ہوئے وہ ابد میں آ کے گلے ملے جو ازل میں ہم سے جدا ہوئے یہ الٰہی کیسا غضب ہوا وہ سمائے مجھ میں تو کیا ہوئے مرا دل بنے تو تڑپ گئے مرا سر بنے تو جدا ...

    مزید پڑھیے

    کیوں شوق بڑھ گیا رمضاں میں سنگار کا

    کیوں شوق بڑھ گیا رمضاں میں سنگار کا روزہ نہ ٹوٹ جائے کسی روزہ دار کا ان کا وہ شوخیوں سے پھڑکنا پلنگ پر وہ چھاتیوں پہ لوٹنا پھولوں کے ہار کا حور آئے خلد سے تو بٹھاؤں کہاں اسے آراستہ ہو ایک تو کونا مزار کا شیشوں نے طرز اڑائی رکوع و قیام کی کیا ان میں ہے لہو کسی پرہیزگار کا کیوں ...

    مزید پڑھیے

    کھڑے ہیں موسیٰ اٹھاؤ پردا دکھاؤ تم آب و تاب عارض

    کھڑے ہیں موسیٰ اٹھاؤ پردا دکھاؤ تم آب و تاب عارض حجاب کیوں ہے کہ خود تجلی بنی ہوئی ہے حجاب عارض نہ رک سکے گی ضیائے عارض جو سد رہ ہو نقاب عارض وہ ہوگی بے پردہ رکھ کے پردا غضب کی چنچل ہے تاب عارض چھپا نہ منہ دونوں ہاتھ سے یوں تڑپتی ہے برق تاب عارض لگا نہ دے آگ انگلیوں میں یہ گرمیٔ ...

    مزید پڑھیے

    میں ہی مطلوب خود ہوں تو ہے عبث

    میں ہی مطلوب خود ہوں تو ہے عبث آج سے تیری جستجو ہے عبث سادگی میں ہے لاکھ لاکھ بناؤ آئنہ تیرے روبرو ہے عبث مجھ کو دونوں سے کچھ مزا نہ ملا دل عبث دل کی آرزو ہے عبث باد آب آگ خاک گرد روح زشت‌ رویوں میں خوبرو ہے عبث طور‌ و موسیٰ ہیں ذرہ ذرہ میں کب ترا جلوہ چار سو ہے عبث لپٹے ہیں ...

    مزید پڑھیے

    وہ پارہ ہوں میں جو آگ میں ہوں وہ برق ہوں جو سحاب میں ہوں

    وہ پارہ ہوں میں جو آگ میں ہوں وہ برق ہوں جو سحاب میں ہوں زمیں پہ بھی اضطراب میں ہوں فلک پہ بھی اضطراب میں ہوں نہ میں ہوا میں نہ خاک میں ہوں نہ آگ میں ہوں نہ آب میں ہوں شمار میرا نہیں کسی میں اگرچہ میں بھی حساب میں ہوں اگرچہ پانی کی موج بن کر ہمیشہ میں پیچ و تاب میں ہوں وہی ہوں قطرہ ...

    مزید پڑھیے

    محشر میں چلتے چلتے کروں گا ادا نماز

    محشر میں چلتے چلتے کروں گا ادا نماز پڑھ لونگا پل صراط پہ مائلؔ قضا نماز سر جائے عمر بھر کی ہو یا رب ادا نماز آئے مری قضا تو پڑھوں میں قضا نماز مانگی نجات ہجر سے تو موت آ گئی روزے گلے پڑے جو چھڑانے گیا نماز دیکھو کہ پھنس نہ جائیں فرشتے بھی جال میں کیوں پڑھ رہے ہو کھول کے زلف رسا ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2