ہو گئے مضطر دیکھتے ہی وہ ہلتی زلفیں پھرتی نظر ہم
ہو گئے مضطر دیکھتے ہی وہ ہلتی زلفیں پھرتی نظر ہم دیتے ہیں دل اک آفت جاں کو تھامے ہوئے ہاتھوں سے جگر ہم غیر کو گر وہ پیار کریں گے اپنے لہو میں ہوں گے تر ہم ڈال ہی دیں گے ان کے قدم پر کاٹ کر اپنے ہاتھ سے سر ہم صلح ہوئی تو نالے کھینچے یوں کرتے ہیں سب کو خبر ہم پیٹتے ہیں سینے کا ...