Abdul Salam Bengluri

عبد السلام بنگلوری

عبد السلام بنگلوری کی غزل

    شعر کہنے کی طبیعت نہ رہی

    شعر کہنے کی طبیعت نہ رہی جس سے آمد تھی وہ صورت نہ رہی اس کی دہلیز سے اٹھ جاؤں مگر لوگ سوچیں گے محبت نہ رہی اب ملا عدل، گیا دور شباب منصفی تیری بھی وقعت نہ رہی وقت کی دوڑ میں رکنا تھا کٹھن سانس لینے کی بھی فرصت نہ رہی وقت دیدار عجب حکم ہوا ہوش کھونے کی اجازت نہ رہی تم سے جذبات ...

    مزید پڑھیے

    آگ سینوں میں جلا کر رکھیے

    آگ سینوں میں جلا کر رکھیے خواب آنکھوں میں بسا کر رکھیے راحتوں سے لگے صدمے بھی ہیں دل کو مضبوط بنا کر رکھیے عید کا دن ہے گلے مل لیجے اختلافات ہٹا کر رکھیے نفرتیں دل سے نکل جائیں گی ہاتھ دشمن سے ملا کر رکھیے تاب زنجیر نہیں ہے دل کو زلف پیچاں کو سجا کر رکھیے یاد آ جائے گی دیوانے ...

    مزید پڑھیے

    دل کی حالت بیاں نہیں ہوتی

    دل کی حالت بیاں نہیں ہوتی خامشی جب زباں نہیں ہوتی حرف حسرت ہے تم نے کیا سمجھا زندگی داستاں نہیں ہوتی کیا مقابل ہو حسن جاناں کے چاندنی بے کراں نہیں ہوتی تم جو آؤ تو ہو جواں محفل ورنہ کب کہکشاں نہیں ہوتی حسن کی بے رخی ادا ٹھہری عاشقی بد گماں نہیں ہوتی بے قراری کی بس دوا تم ...

    مزید پڑھیے