کہانی عشق و محبت کی ختم پر آئی
کہانی عشق و محبت کی ختم پر آئی ہوا خیال بچھڑنے کی رہ گزر آئی سرک گیا جو دوپٹا سفید بالوں سے ''ترے جمال کی دوشیزگی نظر آئی''
مزاحیہ شاعروں میں شامل، ’انداز بیاں‘ نام سےشاعری کا مجموعہ شائع ہوا
A poet of humour; published a collection of poems 'Andaaz-e-Bayaan'
کہانی عشق و محبت کی ختم پر آئی ہوا خیال بچھڑنے کی رہ گزر آئی سرک گیا جو دوپٹا سفید بالوں سے ''ترے جمال کی دوشیزگی نظر آئی''
کسی سے دل لگانے میں بڑی تکلیف ہوتی ہے نظر کی چوٹ کھانے میں بڑی تکلیف ہوتی ہے ترے کوچے میں ہی دو چار پڑ جاتے تو اچھا تھا مرے محبوب تھانے میں بڑی تکلیف ہوتی ہے
دل پہ اپنے چوٹ کھا کر رو دیئے عاشقی میں جھنجھلا کر رو دیئے لاٹھیوں سے عاشقوں نے جب دھنا آپ کے پہلو میں آ کر رو دیئے
اے شیخ کنگھا کرنا نہیں زیب دیتا یوں داڑھی میں تو کبھی کوئی تنکا بھی چھوڑ دے ہر وقت اپنی بیوی کو رکھ ساتھ تو مگر ''لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے''
گدھے کے ساتھ اک لیڈر کا فوٹو ذرا دیکھو تو کیا بڑھیا چھپا ہے یہ فوٹو دیکھ کر اک شخص بولا نہ جانے کون سا ان میں گدھا ہے
مر جائے مولوی تو فقط ہوگی فاتحہ لیڈر اگر مرے گا تو ہوگا مظاہرہ حیرت کی بات یہ ہے کہ افسوس کے لئے شاعر اگر مرے گا تو ہوگا مشاعرہ
ہکلا گیا جو شادی میں دولہا تو کیا ہوا زیادہ خوشی میں سانس اٹکتی ضرور ہے خوش ہو رہا تھا دولہا تو قاضی نے یوں کہا ''بجھنے سے پہلے شمع بھڑکتی ضرور ہے''
اب کہاں ہے وہ نشتروں کی بہار طنز رخصت ہوا فگارؔ کے ساتھ کچھ بھی باقی نہیں ہے محفل میں شیروانی گئی خمارؔ کے ساتھ
آتنک کا ماحول ہے چھایا ہوا دل پر خوف اتنا ہے بازار اکیلی نہیں جاتی بندوق سے محبوبہ ہے سہمی ہوئی اتنی بیمار بھی ہوتی ہے تو گولی نہیں کھاتی
ایک لیڈر نے یہ کہا مجھ سے آج ہم پی کے بے حساب آئے اک دفعہ بیٹھنے دو کرسی پہ ''اس کے بعد آئے تو عذاب آئے''