میں نے کہا گدھے سے میاں کچھ پڑھو لکھو
میں نے کہا گدھے سے میاں کچھ پڑھو لکھو بولا جناب ہو گئی بے عزتی تو پھر بے عزتی بھی ٹھیک ہے لیکن جناب من پڑھ لکھ کے بن گیا میں اگر آدمی تو پھر
مزاحیہ شاعروں میں شامل، ’انداز بیاں‘ نام سےشاعری کا مجموعہ شائع ہوا
A poet of humour; published a collection of poems 'Andaaz-e-Bayaan'
میں نے کہا گدھے سے میاں کچھ پڑھو لکھو بولا جناب ہو گئی بے عزتی تو پھر بے عزتی بھی ٹھیک ہے لیکن جناب من پڑھ لکھ کے بن گیا میں اگر آدمی تو پھر
داستان عشق میں نے جب کہی سسرال میں میرے سالے گالیاں بے انتہا دینے لگے ساس نے ڈنڈا اٹھایا اور سسر نے چپلیں ''جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے''
پہنچا سیاہ فام اک اعلیٰ مقام پر دن ہو رہا ہے جھوم کے قربان شام پر گوروں نے شاعروں کو سنانے کے واسطے کالی غزل کہی ہے اوباماؔ کے نام پر
نالے کہیں بلبل کے سنائی نہیں دیتے عاشق بھی شب غم میں دہائی نہیں دیتے اب میرؔ نہیں ہیں تو گلی سونی پڑی ہے عطار کے لونڈے بھی دکھائی نہیں دیتے
میری بیوی نے بنا رکھی ہے فٹبال کی ٹیم مجھ کو معلوم نہیں اس کی تمنا کیا ہے بارہواں بچہ ہے گھر میں مرے آنے والا ''زندگی اور بتا تیرا ارادہ کیا ہے''
زبان مادری پوچھی جو اک لڑکے سے کالج میں تو وہ بولا نہیں مجھ کو پتا کیا ہے زباں میری اگر سچ جاننا چاہیں تو سنئے ماسٹر صاحب ''زبان مادری کچھ بھی نہیں گونگی ہے ماں میری''
عشق میں صبر آ گیا آثمؔ اور کیا ہوگا اس کمال کے بعد عشق پھولے پھلے گا اب شاید ان کے ابا کے انتقال کے بعد
وہ حال ہے ہر ایک بشر کانپ رہا ہے بیٹا بھی جھکائے ہوئے سر کانپ رہا ہے شوہر بھی ہے نوکر کی طرح کونے میں دبکا بیگم نے قدم رکھا تو گھر کانپ رہا ہے
دیا نیند نے ایسا آنکھوں کو دھوکا کہ کشتی لگی دور جا بہتے بہتے وہ بیٹھے رہے رات بھر آنکھ کھولے ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے
جو آپ پر فدا ہیں وہ میرے رقیب ہیں حیرت یہ ہے کہ آپ انہیں کے قریب ہیں بوسہ دیا ہے سامنے میرے رقیب کو واللہ آپ کتنے عجیب و غریب ہیں