ایسی خوشبو تو مجھے آج میسر کر دے
ایسی خوشبو تو مجھے آج میسر کر دے
جو مرا دل مرا احساس معطر کر دے
خشک پھر ہونے لگے زخم دل بسمل کے
اپنی چاہت کی نمی دے کے انہیں تر کر دے
وسعت دل کو ذرا اور بڑھا دے یا رب
یہ جو گاگر ہے اسے پیار کا ساگر کر دے
آہٹیں نیند کی جو سننے کو ترسے آنکھیں
وہ ہی بچپن کی طرح فرش کو بستر کر دے
منتظر میں ہوں سمنؔ کوئی کہیں سے آ کر
دل ابھی تک جو مکاں ہے وہ اسے گھر کر دے