افزوں جو شباب دم بدم ہوتا ہے احمد حسین مائل 07 ستمبر 2020 شیئر کریں افزوں جو شباب دم بدم ہوتا ہے گھٹتی ہے عمر کیا ستم ہوتا ہے ہے مثل چراغ زندگانی مائلؔ بتی جلتی ہے تیل کم ہوتا ہے