افزوں جو شباب دم بدم ہوتا ہے

افزوں جو شباب دم بدم ہوتا ہے
گھٹتی ہے عمر کیا ستم ہوتا ہے
ہے مثل چراغ زندگانی مائلؔ
بتی جلتی ہے تیل کم ہوتا ہے