آنکھوں میں تھا پیار لبوں پر نام وفا کا تھا
آنکھوں میں تھا پیار لبوں پر نام وفا کا تھا
کل تک تو وہ شخص بھی بالکل میرے جیسا تھا
اپنی اپنی مٹھی میں سب جگنو رکھے تھے
لیکن سب کی راہوں میں کتنا اندھیارا تھا
آندھی آنے سے پہلے ہی بچے جاگ گئے
رات ہواؤں کے چلنے میں شور بلا کا تھا
ہلکی سی بوچھار نے سارے نقش مٹا ڈالے
رنگ ہماری تصویروں کا کتنا کچا تھا
پیاس کی شدت بڑھتے ہی معلوم ہوا ہم کو
جان بچانے میں ساحل سے آگے دریا تھا
آج نہ جانے کیا کچھ دیکھ کے چپ ہو جاتا ہے
کل تک یہ آئینہ بالکل میرے جیسا تھا