عالم کتنے
اف یہ شبنم سے چھلکتے ہوئے پھولوں کے ایاغ
اس چمن میں ہیں ابھی دیدۂ پر نم کتنے
کتنے غنچے ہیں جگر چاک گلستاں میں ابھی
ہر طرف زخم ہیں بے منت مرہم کتنے
کتنے سینوں میں شکستہ ہیں ابھی دل کے رباب
لب خاموش پہ ہیں نغمۂ ماتم کتنے
کتنے ماتھوں کے ابھی سرد ہیں رنگین گلاب
گرد افشاں ہیں ابھی گیسوئے پر خم کتنے
ذہن آدم میں ہے افکار کی دنیا آباد
قلب انساں میں امانت ہیں ابھی غم کتنے
دھندلے دھندلے سے ستارے ہیں افق پر لرزاں
زندگانی کے حسیں خواب ہیں مبہم کتنے
آج تو کاکل گیتی نہ سنور جائے گی
سلسلے شوق کے ہوں گے ابھی برہم کتنے
جذب ہوں گے ابھی اس خاک چمن میں اے دوست
اشک بن بن کے گہر ریزۂ شبنم کتنے
ابھی گونجیں گی سلاسل کی صدائیں کتنی
اور ہوں گے ابھی زنجیر سے ماتم کتنے
زندگی راہ تصادم میں بھٹکتی ہے ابھی
وقت کے لب پہ ابھی عذر ہیں پیہم کتنے
اک ذرا صبر کہ ان سرخ گھٹاؤں کے تلے
سرنگوں ہوں گے یہاں خاک پہ پرچم کتنے
لالہ و گل کے تبسم سے شفق پھولے گی
ہر طرف رنگ نظر آئیں گے باہم کتنے
خون دل میں ہے نہاں شعلۂ صد رنگ بہار
اس گلستاں میں ہیں اس راز کے محرم کتنے
انہی ذروں سے ابھر آئیں گے کتنے مہ و مہر
اسی عالم سے سنور جائیں گے عالم کتنے